وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بجلی کی بحالی کے کام میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور 30 اگست تک بڑی تعداد میں فیڈرز اور گرڈز کو بحال کر دیا گیا ہے۔
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق پیسکو کے سوات، بونیر، شانگلہ، صوابی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 12 گرڈز اور 91 فیڈرز متاثر ہوئے تھے، جن میں سے 84 مکمل اور 7 جزوی طور پر بحال کر دیے گئے ہیں۔ صوابی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بجلی کی فراہمی مکمل طور پر بحال ہوچکی ہے۔

گیپکو کے زیرِ انتظام سیالکوٹ، نارووال، وزیرآباد اور حافظ آباد میں 10 گرڈز اور 87 فیڈرز متاثر ہوئے، جن میں سے 68 فیڈرز مکمل اور 17 جزوی طور پر بحال ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: سیلابی صورتحال کے باعث پنجاب کے 9 اضلاع میں پولیو مہم مؤخر
لیسکو کے لاہور، اوکاڑہ، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ میں 56 فیڈرز متاثر ہوئے، جو جزوی طور پر بحال ہیں، جبکہ مکمل بحالی 31 اگست سے 5 ستمبر کے درمیان متوقع ہے۔

فیسکو کے فیصل آباد، چنیوٹ، جھنگ، سرگودھا، میانوالی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 17 گرڈز اور 53 فیڈرز متاثر ہوئے، جنہیں عارضی طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی: پنجاب میں درجنوں افراد جاں بحق، جنوبی اضلاع اور سندھ کے لیے ہائی الرٹ
میپکو کے علاقوں میں 67 فیڈرز متاثر ہوئے ہیں، جہاں پانی اترتے ہی بحالی کا عمل شروع کیا جائے گا۔ اسی طرح ٹیسکو کے شمالی وزیرستان میں 2 متاثرہ فیڈرز عارضی طور پر بحال ہوچکے ہیں، جن کی مکمل بحالی 5 ستمبر تک متوقع ہے۔

رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر سیلاب سے متاثرہ 39 گرڈز اور 356 فیڈرز میں سے 152 مکمل جبکہ 202 کو عارضی طور پر بحال کیا جا چکا ہے۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ ڈسکوز کی فیلڈ ٹیمیں دن رات بحالی کے کام میں مصروف ہیں اور متاثرہ علاقوں میں بجلی جلد از جلد مکمل طور پر بحال کر دی جائے گی۔














