پاکستان اور آرمینیا کے درمیان سفارتی تعلقات قائم، اسحاق ڈار نے اعلان کردیا

اتوار 31 اگست 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان اور آرمینیا کے درمیان باقاعدہ سفارتی تعلقات قائم ہوگئے ہیں۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ چین کے شہر تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر انہوں نے اور آرمینیا کے وزیر خارجہ آرات میر زویان نے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے اور اس کا تبادلہ کیا۔

اس موقع پر دونوں وزرائے خارجہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا اور معیشت، تعلیم، ثقافت اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

واضح رہے کہ چند روز قبل ہی نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمینیا کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا، جس میں دونوں رہنماؤں نے سفارتی تعلقات کے قیام سے متعلق ابتدائی مشاورت کی تھی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اس گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ نے تعلقات کے قیام پر غور کرنے اور مستقبل میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی ’شیڈو فلیٹ‘ کے خلاف برطانوی کارروائی، بھارتی کپتان کو 10 سال قید کا سامنا

جو روٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ کیچز پکڑنے والے فیلڈر بن گئے

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘