بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایت پر یوں تو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور 5 قائمہ کمیٹیوں کے سربراہوں سمیت 51 اراکین اسمبلی نے استعفیٰ دے دیا تھا، تاہم پی ٹی آئی سے وابستہ 25 اراکین اسمبلی نے ابھی تک مختلف کمیٹیوں کی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا ہے۔
عمران خان نے گزشتہ منگل کو پی ٹی آئی سے وابستہ اراکینِ قومی اسمبلی کو پارلیمانی کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین جنید اکبر اور دیگر 5 قائمہ کمیٹیوں کے سربراہوں سمیت پی ٹی آئی کے 51 اراکینِ قومی اسمبلی نے قائمہ کمیٹیوں سے استعفے دے دیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی پارٹی کو قومی اسمبلی کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت
پارلیمنٹ ہاؤس کے ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سے وابستہ 25 ارکانِ قومی اسمبلی اس وقت بھی ایسے ہیں جنہوں نے قائمہ کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ نہیں دیا ہے، ان میں لطیف کھوسہ، شیر افضل مروت، ریاض فتیانہ، شیر علی ارباب سمیت دیگر شامل ہیں۔
ذرائع نے وی نیوز کو بتایا کہ 51 ارکانِ قومی اسمبلی اور ایک سینیٹر محسن عزیز نے قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا، البتہ 25 ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفے تاحال موصول نہیں ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق تاحال پارلیمانی کمیٹیوں کا حصہ رہنے والے پی ٹی آئی کے اراکینِ قومی اسمبلی میں سلیم رحمان، سہیل سلطان، بشیر خان، محمد نواز خان، محمد عاطف، شیر علی ارباب، ذوالفقار علی، نسیم علی شاہ اور شیر افضل مروت شامل ہیں۔
اسی طرح مبین عارف، اسامہ احمد میلہ، میقاد علی خان، غلام محمد، علی افضل ساہی، سعد اللہ، عمر فاروق، ریاض خان فتیانہ، محبوب سلطان، لطیف کھوسہ، عائشہ نذیر، میاں غوث محمد، معظم علی خان، امبر مجید، میاں فیاض حسین اور خواجہ شیراز محمود نے بھی ابھی تک اپنے استعفے اسپیکر قومی اسمبلی کو نہیں بھیجے ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی تمام قائمہ کمیٹیوں سے مستعفی، ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا بھی اعلان
واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے پارٹی کو قومی اسمبلی کی تمام کمیٹیوں سے مستعفی ہونے کی ہدایت جاری کی تھی، جو اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے شیئر کی تھی۔

جس کے بعد جنید اکبر خان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے، جبکہ بیرسٹر گوہر نے قانون و انصاف، انسانی حقوق، آئی ٹی اور ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔ مجموعی طور پر پی ٹی آئی کے 51 اراکینِ قومی اسمبلی نے اپنی مختلف کمیٹیوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔














