اربوں روپے کی منشیات اسمگلنگ میں ملوث بھارتی تاجر کیخلاف انٹرپول حرکت میں آگئی

اتوار 7 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) نے دبئی میں مقیم پون ٹھاکر کے خلاف انٹرپول کا پہلا سلور نوٹس جاری کیا ہے۔

ٹھاکر پر الزام ہے کہ اس نے نومبر 2024 میں دہلی میں پکڑی جانے والی 82 کلو اعلیٰ معیار کی کوکین اسمگل کی، جس کی مالیت تقریباً 2,500 کروڑ بھارتی روپے (تقریباً 83 ارب پاکستانی روپے) بنتی ہے۔

تحقیقات کے مطابق پون ٹھاکر پہلے دہلی میں حوالہ کاروبار کرتا تھا اور بعد ازاں منشیات و منی لانڈرنگ کے عالمی نیٹ ورک میں شامل ہوگیا۔

اس نے دبئی، سنگاپور، ہانگ کانگ اور یورپ میں شیل کمپنیاں بنا کر جائیدادوں اور کاروبار میں سرمایہ لگایا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت میں خاتون پر درخت سے باندھ کر تشدد اور بے لباس کرنے کی کوشش

ای ڈی (Enforcement Directorate) کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کے گروہ نے 681 کروڑ بھارتی روپے (تقریباً 22 ارب 60 کروڑ پاکستانی روپے) جعلی درآمد و برآمد، کرپٹو ٹرانزیکشنز اور جھوٹی دستاویزات کے ذریعے منی لانڈرنگ کی۔

ٹھاکر بھارت میں طلب کیے جانے پر پیش نہ ہوا اور اپنے خاندان کے ہمراہ دبئی منتقل ہوگیا۔ اس کے 5 ساتھی دہلی سے گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ بھارت حکومت اس کی واپسی کے لیے عالمی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں