اراکین پارلیمنٹ کی ٹیکس ادائیگیوں کی تفصیل بتانے والی ڈائریکٹری کی اشاعت دوبارہ شروع ہونے کا امکان

پیر 8 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اراکین پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری کی دوبارہ اشاعت کا فیصلہ کرلیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آخری مرتبہ کس نے کتنا ٹیکس دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود ٹیکس وصولی میں شارٹ فال کا سامنا کیوں؟

پاکستانی معیشت مختلف مسائل کا شکار ہے اس میں سے ایک اہم اور بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ کاروباری شخصیات سیاست دان اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد مکمل ٹیکس ادا نہیں کرتے۔

ماضی میں ایف بی ار کی جانب سے اراکین پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری کی اشاعت کی جاتی تھی جس سے لوگوں کو پتا چل جاتا تھا کہ کس رکن نے پارلیمنٹ میں کتنا ٹیکس ادا کیا لیکن پھر یہ سلسلہ روک دیا گیا تھا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اب ایک بار پھر ٹیکس ڈائریکٹری کی اشاعت کا سلسلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیال اس کام کے لیے جلد وفاقی حکومت سے اجازت لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اراکین پارلیمنٹ کی ٹیکس ڈائریکٹری کی اشاعت کا آغاز پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے سنہ 2013 میں کیا گیا تھا اور وہ سلسلہ پی ٹی آئی حکومت کے دوران سنہ 2019 کے ٹیکس سال تک جاری رہا۔

آخری بار جنوری 2022 میں ٹیکس سال 2019 کی ڈائریکٹری شائع کی گئی تھی جس کے بعد یہ سلسلہ معطل ہو گیا تھا۔

مزید پڑھیے: تنخوادار طبقے کے لیے خوشخبری، انکم ٹیکس میں مزید کمی کی منظوری

ایف بی آر نے جنوری 2022 میں اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے سال 2019 میں جمع کرائے گئے ٹیکس کی تفصیلات شائع کی تھیں جن کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے 98 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا تھا۔

شہباز شریف نے 82 لاکھ روپے ٹیکس ادا کیا تھا جبکہ آصف علی زرداری نے 22 لاکھ روپے، شاہد خاقان عباسی نے 49 لاکھ روپے جبکہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے 5 لاکھ 3 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سال سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سمیت مختلف اراکین پارلیمنٹ نے صفر روپے ٹیکس جمع کرایا تھا جبکہ متعدد اراکین نے 5 ہزار روپے سے بھی کم ٹیکس جمع کرایا تھا۔

مزید پڑھیں: تنخواہ دار طبقے کو 7 ماہ میں کتنے ارب روپے اضافی انکم ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا گیا؟

ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق چونکہ ٹیکس ڈائریکٹری کی اشاعت کے لیے وفاقی کابینہ کی منظوری درکار ہوتی ہے اس لیے بورڈ نے سمری تیار کرکے متعلقہ حکام کو ارسال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگلے ہفتے تک حکومت سے باقاعدہ منظوری حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

ایف بی آر اب ان افراد کے خلاف ’نامزدگی اور شرمندگی‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جو اپنی آمدنی چھپا کر کروڑوں روپے کے ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: سندھ: زرعی انکم ٹیکس بل 2025 منظور، کس پر کتنا ٹیکس لگے گا؟

اس پالیسی کے تحت ٹیکس چوری کرنے والوں کے نام منظر عام پر لائے جا سکتے ہیں جس سے نہ صرف ٹیکس دہندگان پر دباؤ بڑھے گا بلکہ عوامی احتساب بھی ممکن ہو سکے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب سیف جیلز پراجیکٹ اور ملاقات ایپ کیا ہے؟

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، پاک افغان کشیدگی پر تبادلہ خیال

پاک افغان کشیدگی کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس 3 ہزار سے زائد پوائنٹس گرگیا

ایران نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی

ویڈیو

افغان طالبان کی بلااشتعال جارحیت کا مؤثر جواب، خیبرپختونخوا کے عوام کا افواجِ پاکستان سے اظہارِ یکجہتی

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشان غضب للحق، کابل سے قندھار تک افغان طالبان کے خلاف کامیاب پاکستانی کارروائی، افغان چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے، عالمی طاقتوں کی کشیدگی کم کرنے کی اپیل

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟