بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام نے ایک اور ذاتی واقعے کو ’دہشتگردی‘ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے تاکہ پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بارڈر سیکیورٹی فورس (BSF) نے 7 ستمبر کو جموں کے تحصیل سچیت گڑھ (آر ایس پورہ) سے ایک نوجوان سراج خان کو گرفتار کیا، جو پنجاب (پاکستان) کا رہائشی ہے۔ تلاشی کے دوران اس کے پاس سے صرف 30 روپے پاکستانی برآمد ہوئے۔
بھارتی پولیس نے تفتیش کے دوران خود تصدیق کی کہ سراج خان نے یہ تسلیم کیا کہ وہ محض ایک بھارتی اداکارہ اور سوشل میڈیا انفلوئنسر، اوینیٹ کور سے ملنے کے جنون میں سرحد پار آیا۔ اس واضح اعتراف کے باوجود بھارتی پولیس اور انٹیلی جنس ادارے اس واقعے کو ’سکیورٹی خطرہ‘ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نئی دہلی کی اس عادت کو ظاہر کرتا ہے جس کے تحت معمولی واقعات کو بڑھا چڑھا کر پاکستان مخالف پروپیگنڈا بنایا جاتا ہے۔
ان کے مطابق یہ جھوٹا بیانیہ نہ صرف عام شہریوں کو مجرم بنا دیتا ہے بلکہ بھارت کی اس بوکھلاہٹ کو بھی بے نقاب کرتا ہے جو ’دراندازی‘ کے بیانیے کو زندہ رکھنے کے لیے دکھائی جاتی ہے۔














