وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاک فوج کے میجر عدنان اسلم کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے گزشتہ روز ایف سی لائن بنوں میں دہشتگردوں سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کی تھی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نماز جنازہ میں ان کے والد، سسر اور بہنیں موجود تھیں جنہوں نے اپنے بیٹے کی شہادت پر فخر کا اظہار کیا۔ پاک فوج کے نوجوانوں نے شہادتوں کی نئی تاریخ رقم کی ہے، ہم پاک فوج کی قربانیوں پر اس کے شکرگزار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: میجر عدنان اسلم شہید کی نمازِ جنازہ راولپنڈی میں ادا، وزیراعظم و عسکری قیادت کی شرکت
انہوں نے کہا کہ جو لوگ فوج کی قربانیوں کی تضحیک کررہے ہیں اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، ہمارے جوان گھربار چھوڑ کر سرحدوں پر جاتے ہیں ان کی اور ان کے خاندانوں کی کیفیت کو سمجھیں، اگر ہم نے فتنے کی بیخ کنی نہیں کی تو اس قوم کے ساتھ اس سے بڑھ کر ظلم و زیادتی کوئی نہیں ہوگی۔
شہید میجر عدنان کی بہنوں نے کہا کہ ہم ایک دلیر بھائی کی بہنیں ہیں۔ ہمارے بھائی نے وطن کے لیے عظیم قربانی دی ہے۔
جو لوگ آج اس ملک میں زہریلا پروپیگنڈا کر رہے ہیں اور ان قربانیوں کا جس طرح تمسخر اُڑا رہے ہیں، اُس کی جتنی بھی سخت الفاظ میں مذمت کی جائے، وہ ناکافی ہے۔ وزیرِاعظم شہباز… pic.twitter.com/YGCgHNRjqH— WE News (@WENewsPk) September 10, 2025
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمارا ملی اور سیاسی فرض ہے کہ ہم اس فتنے کو ختم کریں چاہے وہ پاکستان کے اندر سوشل میڈیا پر موجود ہو یا باہر بیٹھے ہو، جس طرح ہماری افواج اور ان کی لیڈرشپ کو مطعون کیا جارہا ہے وہ ناقابل برداشت ہے اور اس کا سر کچلنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: دورہ چین میں پاکستان کے کتنے معاہدے ہوئے اور کیا اہم یقین دہانیاں کروائی گئیں؟
وزیراعظم نے دورہ چین کے دوران معاہدے طے کرنے اور دورہ کامیاب بنانے پر حکام، سفارتکاروں اور کابینہ ممبران کو شاباش دی اور کہا کہ چین میں ہونے والی تجارتی کانفرنس کامیاب تھی۔ ماضی میں معاہدوں پر عمل درآمد نہیں ہوا اس بار ایسا ہونے نہیں دیں گے اور غیرضروری تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کے ساتھ کل معدنیات کے شعبے میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں خزانے مدفن ہیں، امریکا سے اس شعبے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری آئے گی، اس کے لیے ہمیں امریکا کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے محنت کررہے ہیں، ساتھ ہی چین کے ساتھ بھی شراکت داری میں اضافہ کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سیلاب کی تازہ ترین صورت حال: بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا
وزیراعظم نے سیلاب کی وجہ سے ہونے والی جانی اور اقتصادی نقصانات سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی اور زرعی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب نے پنجاب اور پختونخوا میں تباہی مچا دی ہے اور اب پانی نے سندھ کا رخ کیا ہے، میں نے وزارت ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کے ذمے لگایا ہے کہ وہ آئندہ کے لیے روڈ میپ کے ساتھ آگے آئے۔ اگلے ہفتے فصلوں کو ہونے والے نقصانات کا تخمینہ سامنے آئے گا، سیلاب سے اب تک ایک ہزار پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ہزاروں ایکڑ زرعی زمینیں زیر آب آگئی ہیں۔
وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں دوحا قطر میں ہونے والے اسرائیلی حملے کی مذمت کی اور غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کو بدترین بربریت اور سفاکیت قرار دیا۔
اس موقع پر انہوں نے بحری امور کے وزیر چوہدری ملک انوار اور سابق چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی والدہ کی رحلت پر تعزیت بھی کی۔












