سوشل میڈیا پر بے ہودہ، فحش اور غیر اخلاقی مواد اپلوڈ کرنے پر #علیشاہ 007 گرفتار
▪︎ تھانہ گلبہار پولیس کی کارروائی
▪︎ مقدمہ درج، مزید تفتیش جاریکیپٹل سٹی پولیس پشاور واضح کرتی ہے کہ سوشل میڈیا پر بے ہودہ مواد پھیلانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔ pic.twitter.com/0qYrhdTPlh
— Capital City Police Peshawar (@PeshawarCCPO) September 9, 2025
کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر مبینہ فحش، قابلِ اعتراض اور غیر اخلاقی مواد پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا آغاز کیا ہے اور 7 ایف آئی آر درج کرکے خواتین سمیت 10 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لڑکی کا روپ دھارنے والا صوابی کا نوجوان ٹک ٹاکر گرفتار، حقیقت بے نقاب
ایس ایس پی آپریشنز مسعود احمد بنگش نے پولیس کریک ڈاؤن کی تصدیق کی اور بتایا کہ پولیس کو سوشل میڈیا پر فحاشی کے حوالے سے شکایات مل رہی تھیں جس کی بنا پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند روز میں پشاور کے تھانوں میں 7 ایف آئی آر درج کرکے اب تک خواتین اور خواجہ سرا سمیت 10 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق شاہ پور، گلبہار، خزانہ، کوتوالی اور یکہ توت تھانوں کی حدود میں کارروائیاں کی گئیں جہاں مقدمات درج کرکے عشرت عرف کنگ خان، ثنا عرف کوکو، شیراز ولد شیر زادہ، علی شاہ عرف 007 دختر داؤد شاہ، سونیا شاہ زوجہ داؤد شاہ، خواجہ سرا سجل خان اور نور زادہ عرف لالے ولد نواب خان کو گرفتار کیا گیا۔
تھانہ چمکنی پولیس کی کارروائی، #سوشل_میڈیا پر اسلحہ کی نمائش کرنے والے ملزمان گرفتار
ملزمان میں شریف ولد گل رحمان، عبدالاحد عرف عادل ولد عبدالطیف اور فیروز ولد عزیز رحمان شامل ہے
کیپٹل سٹی پولیس پشاور
پرامن معاشرے کی ضامن pic.twitter.com/VETaxfzuaD— Capital City Police Peshawar (@PeshawarCCPO) September 11, 2025
’ہمارا مقصد سزا دینا نہیں اصلاح کرنا ہے‘
ایس ایس پی نے بتایا کہ کریک ڈاؤن عوامی شکایات پر کیا گیا اور یہ عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کارروائی کا مقصد کسی کو سزا دینا نہیں بلکہ اصلاح کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار افراد نے آئندہ ایسا نہ کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جوئے کی پروموشن کا الزام: ڈکی بھائی کے بعد مزید 2 ٹک ٹاکرز این سی سی آئی اے کے نشانے پر، نوٹسز جاری
پشاور پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ پشاور میں سماجی برائیوں کے خلاف جاری مہم کے دوران گن کلچر، ہوائی فائرنگ اور اسلحہ نمائش کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا۔
اس دوران گلبہار، یکہ توت، کوتوالی، ریگی، انقلاب، ناصر باغ اور خزانہ میں کارروائی کرتے ہوئے 22 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بے حیائی، فحش اور غیر اخلاقی ویڈیوز اپلوڈ کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز
تھانہ کوتوالی پولیس کی کارروائی، بے حیائی پھیلانے والا ملزم خواجہ سرا سجل سکنہ کوتوالی گرفتار
گرفتار ملزم کے خلاف قانون کے مطابق مقدمہ درج#PeshawarPolice #SayNoToObscenity pic.twitter.com/4jfjpKcIUO
— Capital City Police Peshawar (@PeshawarCCPO) September 9, 2025
پولیس حکام نے واضح کیا کہ غیر اخلاقی مواد اپ لوڈ کرنے والوں اور گن کلچر کو فروغ دینے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ شہریوں کو پرامن اور محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
’کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو معذرت‘
پشاور پولیس نے ٹک ٹاکرز کی مختلف ویڈیوز بھی جاری کی ہیں جن میں 2 حصے ہیں۔
ویڈیوز کے شروع میں ان کی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز دکھائی گئی ہیں جن میں کچھ قابلِ اعتراض یا نازیبا حرکتیں شامل ہیں، جبکہ دوسرے حصے میں متعلقہ ٹک ٹاکر کی جانب سے معذرت کی ویڈیو ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاکر سامعہ حجاب اغوا کیس، ملزم کی ضمانت منظور
ایک مختصر ویڈیو میں علیشاہ 007 نامی خاتون ٹک ٹاکر بتا رہی ہیں کہ انہیں گلبہار پولیس نے گرفتار کیا ہے اور وہ اپنی ویڈیوز پر معافی مانگ رہی ہیں۔
ویڈیو میں وہ کہتی ہیں کہ وہ آئندہ ایسی ویڈیوز اپ لوڈ نہیں کریں گی اور اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو اس پر بھی معافی چاہتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر بے ہودہ و غیر اخلاقی مواد پھیلانے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن
تھانہ آغا میر جانی شاہ پولیس نے نور زادہ عرف لالے ولد نواب سکنہ یکہ توت کو گرفتار کرلیا۔
ملزم کے خلاف مقدمہ درج، مزید تفتیش جاری۔#PeshawarPolice #SocialMedia #Awareness pic.twitter.com/o5c7ieMA5Y— Capital City Police Peshawar (@PeshawarCCPO) September 9, 2025
پولیس نے باقاعدہ گرفتار ٹک ٹاکرز کی ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں سب دوبارہ ایسی حرکات نہ کرنے کی یقین دہانی کر رہے ہیں۔
ٹک ٹاک پر مبینہ فحاشی کے خلاف ہائیکورٹ میں درخواست
کچھ دن پہلے نوشہرہ سے تعلق رکھنے والے ثاقب الرحمن نامی شہری نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ٹک ٹاک پر فحاشی پھیلائی جا رہی ہے جس سے معاشرہ خراب ہو رہا ہے۔

درخواست کے مطابق ٹک ٹاکرز سوال جواب کا مقابلہ کرتے ہیں اور ہارنے والے کو نازیبا سزائیں دی جاتی ہیں، جبکہ فحش گالیاں بھی دی جاتی ہیں۔ درخواست پر ابھی تک سماعت نہیں ہوئی ہے۔














