قدامت پسند نوجوان رہنما چارلی کرک ہلاک، امریکا میں 4 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان

جمعرات 11 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی قدامت پسند کارکن اور نوجوانوں کی تنظیم ’ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے’ کے شریک بانی چارلی کرک کو یوٹا ویلی یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ حملہ آور تاحال مفرور ہے، جب کہ واقعے نے امریکا بھر میں سیاسی تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، بدھ کی دوپہر تقریب کے دوران اس وقت گولی چلائی گئی جب چارلی کرک تقریباً 3000 افراد کے سامنے اسٹیج پر موجود تھے اور ناظرین کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’قتل کی ایک اور کوشش‘ ناکام، حملہ آور گرفتار

حملہ آور نے یونیورسٹی کی ایک عمارت کی چھت سے تقریباً 200 یارڈ کے فاصلے سے نشانہ بنایا۔ گولی کرک کی گردن میں لگی، وہ زخمی حالت میں زمین پر گر پڑے۔ سیکیورٹی ٹیم انہیں فوراً اسپتال لے گئی، تاہم انہیں بچایا نہ جا سکا۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ دیر بعد ان کی موت کی تصدیق کی۔

ابتدائی طور پر ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا تھا، تاہم ایف بی آئی ڈائریکٹر کش پٹیل نے بعد ازاں تصدیق کی کہ وہ شخص ملوث نہیں اور رہا کر دیا گیا۔ یونیورسٹی کے سیکیورٹی کیمروں میں اصل حملہ آور کی فوٹیج موجود ہے اور پولیس کے مطابق یہ ایک ہی شخص کا حملہ تھا۔

واقعے کے فوری بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو ’شیلٹر ان پلیس‘ (کمرے یا کلاس رومز میں محفوظ رہنے) کی ہدایت جاری کی۔

’سیاسی قتل‘، گورنر کا ردعمل

امریکی ریاست یوٹا کے گورنر اسپنسر کاکس نے واقعے کو ’سیاسی قتل‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا کی جمہوری بنیادوں پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چارلی کرک ایک شوہر اور 2 بچوں کے والد تھے۔ ان پر حملہ ان کے خیالات اور نظریات کی وجہ سے ہوا ہے، اور یہ ہمارے آئین پر حملے کے مترادف ہے۔ کاکس نے مزید کہا کہ ریاست یوٹا میں سزائے موت موجود ہے اور مجرم کو سخت ترین سزا دی جائے گی۔

امریکا میں قومی سطح پر سوگ

امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے اس واقعے کو ’انتہائی تباہ کن‘ قرار دیا اور کہا کہ چارلی کرک ’قریبی دوست اور قدامت پسند تحریک کے مضبوط ترجمان‘ تھے۔ انہوں نے کرک کے اہلِ خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

سابق صدر ٹرمپ نے کرک کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عظیم شخصیت تھے، سرتاپا ایک بہترین انسان۔

ٹرمپ نے حکم دیا کہ وائٹ ہاؤس اور دیگر سرکاری عمارتوں پر امریکی پرچم اتوار تک سرنگوں رہیں گے۔ یہ حکم امریکا کے تمام سرکاری و عسکری دفاتر، فوجی تنصیبات اور بیرونِ ملک سفارتخانوں پر بھی لاگو ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی ریلی کے دوران قاتلانہ حملے میں زخمی، حملہ آور ہلاک، عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟

واضح رہے کہ 31 سالہ چارلی کرک  قدامت پسند نوجوانوں کی تنظیم ’ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے‘ کے بانیوں میں شامل تھے، جو کالجوں اور جامعات میں قدامت پسند خیالات کو فروغ دیتی ہے۔ وہ ٹرمپ کے قریبی اتحادی اور 2024 ریپبلکن کنونشن میں نمایاں مقرر کے طور پر بھی سامنے آئے تھے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب گزشتہ کچھ عرصہ میں ڈونلڈ ٹرمپ سمیت کئی دیگر سیاسی رہنماؤں پر بھی حملے یا حملے کی کوششیں ہو چکی ہیں۔ ان واقعات کے باعث امریکا میں سیاسی تشدد کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا