وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے وفاقی حکومت کو فوری طور پر اقوام متحدہ سے امداد کی اپیل کرنی چاہیے۔
اتوار کے روز گڈو بیراج کے دورے کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے دریائے سندھ میں پانی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو، رکن قومی اسمبلی میر شبیر بجارانی، سردار علی جان مزاری، رکن سندھ اسمبلی عبدالرؤف کھوسو سمیت دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ: سپر فلڈ کی تیاری، ضلعی انتظامیہ اور مسلح افواج متحرک، مراد علی شاہ کی بریفنگ
بعدازاں وزیر اعلیٰ نے سکھر بیراج اور دریائے سندھ کے حفاظتی بندوں کا معائنہ کیا اور ریلیف کیمپوں میں سہولیات کا جائزہ لیا۔
مراد علی شاہ کو بریفنگ دی گئی کہ گڈو بیراج پر اس وقت 6 لاکھ 27 ہزار 908 کیوسک پانی کی آمد ہے، جو اونچے درجے کے سیلاب کے زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور فلڈ فائٹنگ عملے کو ہدایت دی کہ کمزور مقامات پر 24 گھنٹے نگرانی کی جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی فوری اطلاع صوبائی کنٹرول روم کو دی جائے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی گڈو اور سکھر بیراج کا دورہ کیا تھا اور وفاقی حکومت سے زرعی ایمرجنسی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت سیلاب زدگان کی مدد کے لیے کام کررہی ہے، مراد علی شاہ
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے کابینہ اجلاس کے بعد زرعی اور ماحولیاتی ایمرجنسی نافذ کرکے بروقت قدم اٹھایا، تاہم ابھی تک متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت امداد فراہم نہیں کی گئی۔
انہوں نے زور دیا کہ وفاقی حکومت اقوام متحدہ کو فوری طور پر ریلیف کی اپیل کرے تاکہ متاثرین کو جلد از جلد مدد مل سکے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ گڈو بیراج پر پانی کی سطح ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک ہے جبکہ بیراج کی گنجائش ساڑھے چھ لاکھ کیوسک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تمام حفاظتی بند مضبوط ہیں اور حساس مقامات پر مشینری تعینات کی گئی ہے۔ پاک فوج، پاک بحریہ، پی ڈی ایم اے اور ریسکیو 1122 صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’مریم نواز ہمیں دیں، مراد علی شاہ آپ رکھ لیں‘، سندھ کے تاجروں کا احسن اقبال سے مطالبہ
انہوں نے امید ظاہر کی کہ سیلابی ریلا سکھر بیراج سے باآسانی گزر جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی پہلی ترجیح عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے اور صوبائی وزراء و انتظامیہ کشمور سے کیٹی بندر تک متاثرہ علاقوں میں موجود ہیں۔













