اسرائیل کو جنگی جرائم پر جوابدہ ٹھہرایا جائے، پاکستان نے عرب اسلامی ٹاسک فورس بنانے کی تجویز دیدی

اتوار 14 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل عالمی امن کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے، اسے جنگی جرائم پر جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل عالمی امن کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔ دوحہ میں منعقدہ ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے وزارتی تیاری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے قطر کے خلاف اسرائیل کی غیر قانونی اور بلاجواز جارحیت کی سخت مذمت کی۔

یہ بھی پڑھیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی قطر میں اہم سفارتی ملاقاتیں

اسحاق ڈار نے یاد دلایا کہ صرف گزشتہ ماہ او آئی سی وزرائے خارجہ جدہ میں فلسطین میں اسرائیلی جارحیت پر غور کے لیے جمع ہوئے تھے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل دنیا کے امن کے لیے مستقل خطرہ ہے۔

قطر پر حملے کی مذمت

انہوں نے قطر پر اسرائیلی حملوں کو غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا، جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ جارحیت خطے کے استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے اور اسرائیل کی سرکش سوچ کو ظاہر کرتی ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ قطر نے امریکا اور مصر کے ساتھ مل کر فلسطین میں جنگ بندی کے لیے ثالثی کردار ادا کیا ہے، اس لیے اسرائیل کا حملہ نہ صرف ایک خودمختار ریاست پر حملہ ہے بلکہ یہ سفارتکاری پر بھی براہِ راست حملہ ہے۔ انہوں نے قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس کے حقِ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں اس کے ساتھ کھڑا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے قطر پر حملے پر عرب وزرائے خارجہ کا اجلاس، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شرکت

اسحٰق ڈار نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ پاکستان، الجزائر اور صومالیہ کے ساتھ مل کر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں بھی دوحہ پر اسرائیلی حملے پر فوری بحث کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ پاکستان قطر اور دیگر ممالک کے ساتھ عرب۔اسلامی سربراہی اجلاس کی میزبانی بھی کر رہا ہے تاکہ اجتماعی حکمت عملی تشکیل دی جا سکے۔

اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز

وزیرخارجہ نے زور دیا کہ اسرائیل کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اسلامی ممالک کے خلاف اسرائیلی مظالم پر احتساب، اسرائیلی توسیع پسندانہ عزائم کے خلاف عرب اسلامی ٹاسک فورس کی تشکیل کی سفارش کی۔

انہوں نے او آئی سی کی سفارش کے مطابق اسرائیل کی اقوام متحدہ کی رکنیت کی معطلی، رکن ممالک کی جانب سے تعزیری اقدامات، سلامتی کونسل کی طرف سے مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور قیدیوں کے تبادلے، غزہ میں انسانی امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی اور دو ریاستی حل کے لیے بامقصد مذاکراتی عمل کی بحالی جیسے اقدامات تجویز کیے۔

پاکستان کا عزم

آخر میں اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان عالمی امن کے قیام اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت و انصاف کے لیے او آئی سی اور عرب ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کا اہم سفارتی دورہ پر آج روانہ ہوں گے

آبنائے ہرمز پر امریکی شکنجہ: ایران کی سمندری تجارت بند، خطے میں کشیدگی اور عالمی معیشت متاثر

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: امریکا اسے کیسے نافذ کر سکتا ہے؟

ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی

اسلام آباد میں کیا دیکھوں اور فارغ وقت کہاں گزاروں؟ امریکی صحافی نے پاکستانیوں سے تجاویز مانگ لیں

ویڈیو

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا