پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا نے کہا ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف 3 ایک روزہ میچز کی سیریز ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے ایک سنہری موقع ہے اور ٹیم کا مکمل فوکس اسی عالمی ایونٹ پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ویمنز کرکٹ ٹیم آئرلینڈ کے خلاف کامیابی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے، کپتان فاطمہ ثنا
فاطمہ ثنا نے یہ بات لاہور میں قذافی اسٹیڈیم میں پہلے ون ڈے سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ کپ کی تیاری ہمارا مخصوص ہدف ہے اور یہ سیریز ہماری منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بہت اہم ہے۔
ورلڈ کپ: بھارت اور سری لنکا میں مشترکہ میزبانی
ویمنز ورلڈ کپ 30 ستمبر سے 2 نومبر تک بھارت اور سری لنکا میں ’ہائیبرڈ ماڈل‘ کے تحت کھیلا جائے گا جس میں پاکستان کی تمام میچز کولمبو، سری لنکا میں ہوں گے کیونکہ کشیدگی کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان سفر ممکن نہیں ہے۔
سیریز کا شیڈول
جنوبی افریقہ کے خلاف 3 میچز کی سیریز 16، 19 اور 22 ستمبر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلی جائے گی جن کا آغاز شام 3:30 بجے ہوگا۔
بیٹنگ پر خصوصی توجہ
پاکستانی کپتان نے تسلیم کیا کہ ٹیم روایتی طور پر اپنی بولنگ پر انحصار کرتی ہے لیکن اس بار بیٹنگ پر بھی خصوصی کام کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیے: آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے پاکستان کا 15 رکنی اسکواڈ اعلان
انہوں نے کہا کہ ہم نے کیمپ کے دوران بیٹنگ پر بہت محنت کی ہے تاکہ ہماری بیٹنگ لائن بھی بولنگ کا بھرپور ساتھ دے سکے۔
اسکواڈ اور اہم کھلاڑی
پاکستان کی 15 رکنی ٹیم کی قیادت فاطمہ ثنا کر رہی ہیں جب کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کی کپتانی لورا وولوارڈٹ کے سپرد ہے۔
پاکستانی اسکواڈ میں ایمن فاطمہ بھی شامل ہیں جنہوں نے حال ہی میں آئرلینڈ کے خلاف ڈبلن میں ٹی20 انٹرنیشنل ڈیبیو کیا۔
براہِ راست نشریات
پاکستان میں شائقین یہ میچز اے اسپورٹس پر براہ راست دیکھ سکیں گے۔
ماضی کا ریکارڈ
دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 28 ون ڈے میچز کھیلے گئے ہیں جن میں جنوبی افریقہ کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ تاہم گزشتہ مقابلے میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 8 وکٹوں سے شکست دی تھی۔
مزید پڑھیں: ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے شیڈول کا اعلان، پاکستان کا پہلا میچ بھارت سے ہوگا
وہ میچ 14 ستمبر 2023 کو کراچی میں آئی سی سی ویمنز چیمپیئن شپ کے تحت کھیلا گیا تھا۔
عالمی ایونٹ کی تیاری کا اہم موقع
یہ سیریز ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی دونوں ٹیموں کے لیے حتمی تیاری کا موقع ہے جہاں 8 ٹیمیں عالمی ٹائٹل کے لیے مد مقابل ہوں گی۔














