تھائی لینڈ الیکشن: اپوزیشن جماعتوں نے بھاری اکثریت حاصل کر لی

اتوار 14 مئی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تھائی لینڈ میں عام انتخابات میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا ہے، ابتدائی غیر حتمی نتائج کے مطابق تھائی لینڈ کی ’ترقی پسند‘ اپوزیشن جماعتوں نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر لی ہے۔

اتوار 14 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں ایک جانب ’ترقی پسند‘ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی تھیں تو دوسری جانب تقریباً ایک دہائی تک تھائی لینڈ پرفوج کے ساتھ اتحاد کرنے والی ’قدامت پسند‘ جماعتیں حصہ لے رہی تھیں۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی غیر حتمی نتائج کے مطابق ’ترقی پسند‘ جماعتیں فوج کے ساتھ اتحاد کے باوجود ’قدامت پسند‘ جماعتوں کو بڑی شکست سے دوچار کرتی نظر آ رہی ہیں۔

واضح رہے کہ 2020 میں نوجوانوں کی قیادت میں بڑے پیمانے پر جمہوریت نواز مظاہروں کے بعد یہ پہلا انتخاب ہے۔ 2014 میں فوجی بغاوت کے بعد ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے یہ دوسرا الیکشن ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ تقریباً 50 ملین تھائی باشندوں نے تھائی لینڈ کے دو ’ایوانی نظام‘ ایوان بالا اور ایوان زیریں کے لیے 500 ارکان کا انتخاب کرنا ہے اس ایوان کو 9 سال قبل اقتدار پر قبضہ کرنے والی فوج کے لکھے گئے نئے آئین کے ذریعے بھاری اکثریت سے ردّ کیا گیا تھا۔

ادھر اس وقت ملک کی طاقتور قدامت پسند اسٹیبلشمنٹ اپنے ہی بااثر ووٹرز پر انحصار کر رہی ہے جو فوج، بادشاہت اور حکمران اشرافیہ سے منسلک جماعتوں کی حمایت کرتی ہے جن میں سے اکثر دارالحکومت بنکاک میں رہائش پذیرہیں۔

حکومتی اتحاد کے خلاف اس وقت صف آراء زیادہ ’ترقی پسند‘ اور عوامی جھکاؤ والی اپوزیشن جماعتیں ہیں جو جمہوری اصلاحات کے لیے مہم چلا رہی ہیں۔

ان اپوزیشن جماعتوں کی زیادہ تر شہر اور دیہی علاقوں کا محنت کش طبقہ اورسیاسی طور پر بیدار نوجوان حمایت کر رہے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں، موجودہ غیر حتمی نتائج کے مطابق اس وقت سرفہرست حزب اختلاف کی ’پھیو تھائی‘Pheu Thai پارٹی ہے جس نے وزیر اعظم کے لیے تین امیدوار کھڑے کر رکھے تھے۔ یہ ارب پتی شیناوترا خاندان کی پارٹی ہے۔ یہ ایک متنازع سیاسی خاندان ہے جس کی سربراہی سابق وزیر اعظم تھاکسن شیناواترا کر رہے ہیں۔

وزیراعظم کا انتخاب کون کرے گا؟

ضروری نہیں کہ سب سے بڑی پارٹی کا سربراہ تھائی لینڈ کی قیادت کرے یا حکومت بھی بنائے کیوں کہ ملک کا انتخابی نظام ’قدامت پسند‘ اسٹیبلشمنٹ کے زیادہ حق میں ہے۔

25 سے زیادہ نشستیں جیتنے والی جماعتیں وزیراعظم کے لیے اپنا امیدوار نامزد کرسکتی ہیں۔ وزیر اعظم بننے کے لیے امیدوار کے پاس دونوں ایوانوں میں اکثریت یا کم از کم 375 ووٹ ہونا ضروری ہوں گے۔

امکان ہے کہ 250 نشستوں پر مشتمل سینیٹ تھائی لینڈ کی اگلی حکومت کا فیصلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی چوں کہ آئین کے مطابق اس کا انتخاب مکمل طور پر فوج کرتی ہے، اس لیے ممکنہ طور پر یہاں ووٹ اس پارٹی کو ملے گا جو زیادہ تر فوج کی حمایت یافتہ پارٹی ہو گی۔

اس کا مطلب ہے کہ اپوزیشن پارٹی یا اتحاد کو اگلے لیڈر کا انتخاب کرنے کے لیے ایوان زیریں میں ایک فوجی پارٹی کے مقابلے میں تقریباً 3 گنا زیادہ ووٹ درکار ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم