پنجاب میں طوطوں کی رجسٹریشن کے لیے ڈیجٹل ایپ تیار، اب سے طوطا پالنے کی فیس بھی دینا ہوگی

پیر 29 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صوبہ پنجاب میں پالتو طوطوں کی رجسٹریشن کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے، جس کے لیے ایک جدید ڈیجٹل ایپلیکیشن تیار کی جاری ہے۔

اس اقدام کا مقصد مقامی طوطوں کی نسل کی حفاظت، غیر قانونی تجارت پر قابو پانا اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔ پنجاب وائلڈ لائف اینڈ پارکس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کابینہ کو پیش کی گئی سمری منظور ہو گئی ہے، جس کے تحت 4 مقامی طوطوں کی اقسام کو قانونی طور پر رجسٹر کرنے کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: اسد علی طور کو طوطے کیوں بیچے؟ طوطا فروشوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد

اس نئی پالیسی کے تحت طوطا پالنے والے افراد کو اب فی طوطا ہزار روپے کی فیس ادا کرکے آن لائن رجسٹریشن کرنی ہوگی۔ یہ رجسٹریشن نہ صرف کمرشل بریڈرز اور دکان داروں کے لیے بلکہ گھریلو پالتو طوطوں کے لیے بھی لازمی ہوگی۔ محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق یہ اقدام طوطوں کی نایاب نسلوں کو بچانے اور غیر قانونی سمگلنگ روکنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

محکمہ وائلڈ لائف پنجاب نے 4 اقسام کے طوطوں پر ایک ہزار روپے رجسٹریشن فیس مقرر کی ہے۔ یہ طوطے الیگزینڈرائن، رنگ روز، سلیٹی اور پلم ہیڈڈ ہیں۔ جن افراد نے پہلے سے طوطے پالے ہوئے ہیں، انہیں بھی لائسنس کے لیے رجسٹریشن کرانا ہوگی۔

 رجسٹریشن کا عمل

پنجاب وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کی ویب سائٹ پر دستیاب آن لائن پورٹل کے ذریعے طوطوں کی رجسٹریشن کی سہولت دی جائے گی، جو ایک ہفتے کے اندر عوام کے لیے فعال ہو جائے گی۔ ایپلیکیشن استعمال کرنے والے مالک کو طوطے کی نسل، عمر اور مالک کے پاس پہلے سے موجود طوطوں کی تعداد بتانی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ میں طوطا لاپتا، تلاش گمشدہ کے اشتہار آویزاں

تمام معلومات درج کرنے کے بعد، مالک ہزار روپے کی فیس آن لائن ادا کر سکے گا، جس کے عوض طوطے کی رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور لائسنس جاری ہو جائے گا۔ رجسریشن کے بغیر طوطا رکھنے پر جرمانہ یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا۔

وائلڈ لائف ماہرین کے مطابق، پنجاب میں طوطوں کی آبادی میں حالیہ برسوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جو غیر قانونی تجارت، شکار اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہے۔ اس پالیسی سے نہ صرف طوطوں کی تجارت کو قانونی شکل دی جائے گی بلکہ بریڈنگ کو بھی منظم کیا جائے گا۔

محکمہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام طوطوں کی نسل کو بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔ آسٹریلوی یا دیگر درآمدی طوطے اس نئے ضابطے کے تحت نہیں آتے۔ صوبائی حکومت کے یہ نئے قوانین صرف مقامی نسل کے طوطوں کے لیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دبئی میں سائبر قوانین سخت، حملوں کی ویڈیو بنانے پر برطانوی سیاح سمیت متعدد افراد گرفتار

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِصدارت اجلاس، پیٹرولیم قیمتوں کے اثرات، کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ

گوجرانوالہ کی ایتھلیٹ حرم ریحان نے بھارتی ریکارڈ توڑ کر گینز ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا

سرکاری پینشن نظام کی اصلاحات، پاکستان کا50 کروڑ ڈالر قرض پروگرام تجویز

بنگلہ دیش میں نہروں کی ملک گیر کھدائی کا منصوبہ 16 مارچ سے شروع

ویڈیو

اسٹریس اور ذہنی دباؤ سے نجات کے لیے سجدہ ایک بہترین روحانی اور نفسیاتی ذریعہ

یوتھ کلائمیٹ کیٹالسٹس، نوجوانوں کے ٹیکنالوجی سے بھرپور حیرت انگیز اقدامات

ایران کا سپریم لیڈر کیسے منتخب ہوتا ہے، اس کے پاس کیا اختیار ہوتا ہے؟، امریکا و اسرائیل کو بڑا دھچکا

کالم / تجزیہ

دوستی کا نیا چراغ

درگاہ گاجی شاہ اور جن نکالنے کے کرتب

اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے