’صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں پاکستان نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے‘

منگل 30 ستمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

دفاعی اور خارجہ امور کے ماہر اور سابق سفیر رضامحمد نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں امن کے لیے پیش کیے گئے منصوبے میں پاکستان نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے-

وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ سے  فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقاتوں کے دوران اس بارے میں گفتگو ہوتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ میں امن معاہدے کے قریب، وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل نے اس منصوبے کی حمایت کی، ڈونلڈ ٹرمپ

انہوں نے کہا کہ خیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ منصوبہ وزیراعظم شہباز شریف سمیت 8 مسلمان ملکوں کے سربراہان سے ملاقات میں پیش کیا تھا اور اس پر بات ہوئی تھی، اسی وجہ سے اس منصوبے کو جلد حمایت ملی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ایمبیسیڈر رضامحمد نے کہا کہ غزہ کے مستقبل کے لیے صدر ٹرمپ کی سربراہی میں بننے والے امن بورڈ میں ٹونی بلیئر کی شمولیت سے اس کے متنازعہ ہونے کا خدشہ ہے کیوںکہ ان کی اپنی شخصیت متنا زع ہے۔

مزید پڑھیں: نریندر مودی کا غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا خیرمقدم

’اس کے علاوہ اس سے اس بورڈ کے اسرائیل نواز ہونے کا تاثر بھی ظاہر ہو گا، اس لیے بہتر ہوتا کہ ٹونی بلیئر کی جگہ کسی مسلمان ملک کے سربراہ کا نام شامل کرتے۔‘

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حماس کو بالکل ختم نہیں کیا جا سکتا ان کا ایک غیر مسلح سیاسی کردار ہونا چاہیے، ان کو مکمل طور پر نکالنے سے ایک منفی تحریک پیدا ہو گی۔

ایمبیسیڈر رضا کا کہنا تھا کہ توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان پر مشرق وسطیٰ کے لوگوں کے اعتماد کے ذریعے قطر پر ہونے والے اسرائیلی حملے سے پیدا ہونے والی بداعتمادی کا توڑ کر کے آگے بڑھا جائے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ: نیتن یاہو کی حمایت حاصل، حماس کی منظوری باقی

پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ ٹرمپ منصوبے سے مشرق وسطیٰ میں امن کا امکان نظر آ رہا ہے تاہم سعودی عرب کو مستقبل میں اسرائیل یا کسی دوسرے ملک سے بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ہمیشہ رہنے کے لیے ہے اور اس کا اظہار سعودی وزیر دفاع نے بھی کیا ہے۔

مزید پڑھیں: نیتن یاہو نے دوحہ حملے پر قطری وزیراعظم سے معافی مانگ لی

ایمبیسیڈر رضا محمد کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے ذریعے سعودی عرب کا بھارت پر دباؤ ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنے رویے پر نظر ثانی کرے جبکہ اب اگلے مرحلے میں پاکستان کے معدنی اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

پاکستان میں کچھ حلقوں کی جانب سے ٹرمپ منصوبے کی مخالفت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ موجود صورتحال میں یہ منصوبہ غزہ میں امن کے قیام کا واحد بہترین موقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار