بھارت کی وزارت خارجہ نے کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کمیٹی نے افغان طالبان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی پر عائد سفری پابندی عارضی طور پر ختم کر دی ہے جس کے بعد ان کے لیے 9 سے 16 اکتوبر کے دوران بھارت کا دورہ ممکن ہو سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی فوجداری عدالت نے افغان طالبان کے امیر اور چیف جسٹس کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے
اگر یہ دورہ پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے تو یہ سنہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کسی اعلیٰ افغان طالبان رہنما کا بھارت کا پہلا دورہ ہوگا۔
یاد رہے کہ طالبان نے 20 سالہ امریکی موجودگی کے خاتمے کے بعد افغانستان میں اقتدار سنبھالا تھا۔
افغان طالبان کے دور حکومت سے قبل بھارت اور افغانستان کے تعلقات روایتی طور پر خوشگوار رہے ہیں خصوصاً جب ملک میں سابقہ جمہوری حکومتیں برسر اقتدار تھیں۔
مزید پڑھیے: افغان طالبان ٹرمپ کے گرویدہ، امریکا سے دوستی کی خواہش کا اظہار
امیر خان متقی ان طالبان رہنماؤں میں شامل ہیں جن پر اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد ہیں جن میں سفری پابندیاں اور اثاثے منجمد کرنا شامل ہے۔ تاہم اقوام متحدہ بعض اوقات سفارتی مقاصد کے لیے عارضی استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: خواتین پر طالبان کی پابندیاں، آسٹریلیا نے کرکٹ کھیلنے سے انکار دیا
تاحال افغان طالبان انتظامیہ کی جانب سے متقی کے مجوزہ دورہ بھارت پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔














