سعودی شہروں میں’مدینہ‘ مہمان نوازی میں سرفہرست، قیام کی شرح میں حیران کُن اضافہ

اتوار 5 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی وزارتِ سیاحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق مدینہ منورہ نے رواں سال کی پہلی ششماہی (2025ء) میں سیاحتی مہمان نوازی کے اداروں میں قیام کی شرح 74.7 فیصد کے ساتھ تمام سعودی شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایکسٹریم ای: سعودی عرب میں الیکٹرک آف روڈ ریسنگ سیریز کا آغاز

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مدینہ میں لائسنس یافتہ سیاحتی و رہائشی اداروں کی کل تعداد 538 تک پہنچ گئی، جن میں 69 نئے لائسنس شامل ہیں۔

اسی عرصے میں ہوٹل کمروں کی مجموعی تعداد 64,569 رہی، جن میں 6,628 نئے کمرے حال ہی میں شامل کیے گئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق مدینہ منورہ میں اس تیز رفتار ترقی سے شہر کی حیثیت بطور بڑی مذہبی و روحانی سیاحتی منزل مزید مستحکم ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مدینہ ایئرپورٹ کی مرکزی شاہراہ کا نام ولی عہد محمد بن سلمان سے منسوب کرنے کا فیصلہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بڑے ترقیاتی منصوبے اور اعلیٰ معیار کی رہائش و خدمات کی فراہمی نے مدینہ کی سیاحتی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

وزارتِ سیاحت کے مطابق مدینہ میں قیام کی بڑھتی ہوئی طلب نہ صرف مذہبی زائرین کی آمد کو ظاہر کرتی ہے بلکہ مقامی و بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں