سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ نے جمعرات کے روز پیرس میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکرون کی میزبانی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی، جس میں متعدد عرب، اسلامی اور یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا تاریخی معاہدہ طے پاگیا
اجلاس کا مقصد غزہ کی موجودہ صورتحال اور جنگ بندی کے اقدامات پر مشاورت تھا۔
اجلاس میں متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، اٹلی، جرمنی، اسپین، برطانیہ، قطر اور ترکی کے وزرائے خارجہ سمیت یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی محترمہ کیایا کالاس نے بھی شرکت کی۔

شرکا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس امن معاہدے کا خیرمقدم کیا جس کے تحت غزہ میں جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور اسرائیلی انخلا پر اتفاق ہوا ہے۔
اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مکمل اور پائیدار امن کے لیے فلسطینی عوام کی مشکلات کا ازالہ، غزہ کی بحالی اور بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سعودی عرب کا غزہ جنگ بندی معاہدے کا خیر مقدم
بیان میں اقوام متحدہ کی قراردادوں اور نیویارک امن اعلامیے کے تناظر میں دو ریاستی حل پر عمل درآمد، 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی یروشلم کو اس کا دار الحکومت قرار دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔













