انڈونیشیا نے اسرائیلی جمناسٹ کھلاڑیوں کو ویزا دینے سے انکار کردیا

جمعہ 10 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انڈونیشیا نے اسرائیلی جمناسٹ ٹیم کو ویزا دینے سے انکار کردیا، جس کے نتیجے میں اسرائیلی کھلاڑی رواں ماہ جکارتہ میں ہونے والی عالمی جمناسٹک چیمپیئن شپ میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

جنوب مشرقی ایشیا کے اس سب سے بڑے مسلم ملک نے یہ فیصلہ غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور عوامی غم و غصے کے تناظر میں کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس پر پابندی لگی تھی تو اسرائیل پر کیوں نہیں؟ قانونی ماہرین کا اسرائیلی فٹ بالز کلبز پر پابندی کا مطالبہ

ورلڈ آرٹسٹک جمناسٹکس چیمپئن شپ 19 سے 25 اکتوبر تک جکارتہ میں منعقد ہونی ہے، انڈونیشین جمناسٹک فیڈریشن کی سربراہ ایتا جولیاتی نے تصدیق کی کہ اسرائیلی ٹیم ایونٹ میں شرکت نہیں کرے گی، ان کے مطابق حکومت کے فیصلے کے بعد اسرائیلی ٹیم کی شرکت ممکن نہیں رہی۔

انڈونیشیا کے سینیئر وزیر برائے قانونی امور یسرل ایہزا مہیندرا نے کہا کہ اسرائیلی کھلاڑیوں کو ویزا جاری نہ کرنے کا فیصلہ مختلف مذہبی و سماجی تنظیموں کی سفارشات اور دارالحکومت جکارتہ میں عوامی دباؤ کے نتیجے میں کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ یہ فیصلہ انڈونیشیا کی دیرینہ پالیسی کے مطابق ہے، جس کے تحت وہ اس وقت تک اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم نہیں کرے گا جب تک اسرائیل ریاستِ فلسطین کو مکمل خودمختار تسلیم نہیں کرتا۔

غزہ میں اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 67 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، یہ حملے اس وقت شروع ہوئے جب حماس کے جنگجوؤں نے اسرائیلی علاقوں میں حملے کیے تھے، جس میں 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فٹبالر کی مبینہ نفرت انگیز پوسٹس پر احتجاج، جرمن کلب نے معاہدہ ختم کردیا

انڈونیشین جمناسٹک فیڈریشن کی ایک انسٹاگرام پوسٹ پر اسرائیلی ٹیم کی ممکنہ شرکت کی خبر سامنے آنے کے بعد ہزاروں شہریوں نے پروفلسطین تبصرے کیے، عوامی دباؤ کے پیش نظر حکومت کو اسرائیلی کھلاڑیوں کے داخلے سے انکار کرنا پڑا۔

صدر پروباؤو سوبیانتو نے حالیہ اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ دنیا کو ایک آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کرنی چاہیے، مگر ساتھ ہی اسرائیل کی سلامتی کو بھی تسلیم اور یقینی بنانا ہوگا،اگرچہ انڈونیشیا نے اسرائیل کے حوالے سے اپنا مؤقف قدرے نرم کیا ہے، تاہم عوامی جذبات اب بھی سخت ہیں۔

یہ پہلا موقع نہیں جب انڈونیشیا اور اسرائیل کے درمیان کھیلوں سے متعلق تنازع سامنے آیا ہو،مارچ 2023 میں فیفا نے انڈونیشیا سے انڈر 20 ورلڈ کپ کی میزبانی واپس لے لی تھی کیونکہ ایک صوبائی گورنر نے اسرائیلی ٹیم کی میزبانی سے انکار کردیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی نژاد نارویجیئن فٹبالر نے اسرائیلی کلب کی پرکشش آفر کیوں ٹھکرا دی؟

گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے فیفا اور یورپی فٹبال فیڈریشن سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی مقابلوں سے معطل کریں تاکہ غزہ میں جاری نسل کشی کا جواب دیا جا سکے، تاہم اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔

انڈونیشیا کا اسرائیلی کھلاڑیوں کو ویزا نہ دینا نہ صرف عوامی جذبات کا عکاس ہے بلکہ اس کے مستقل سفارتی مؤقف کی بھی توثیق کرتا ہے، یہ واقعہ اس بات کی تازہ مثال ہے کہ غزہ کی صورتحال اب عالمی کھیلوں اور سفارتی تعلقات پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان لیڈر کا نیا فرمان: سزائے موت کا دائرہ وسیع، خواتین پر مزید پابندیاں عائد کردی گئیں

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

کم عمر بچوں کا انٹرنیٹ کا غلط استعمال روکنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے؟

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

پی ٹی آئی میں اختلافات: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور علی امین گنڈاپور آمنے سامنے، وجہ کیا ہے؟

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: افغان طالبان کے 133 کارندے ہلاک، فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں میں بڑے اہداف تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

کاش! پاکستانی کپتان نے عمران خان کے یہ مشورے مانے ہوتے 

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟