نوبیل انعام سے محرومی پر ڈونلڈ ٹرمپ کی خاموشی، مگر سوشل میڈیا پر طوفان

جمعہ 10 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعے کی صبح ٹروتھ سوشل پر متحرک نظر آئے، لیکن حیران کن طور پر انہوں نے اپنی نوبیل امن انعام میں ناکامی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ناروے کی نوبل کمیٹی نے اس سال کا امن انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچادو کو دیا، جس پر ٹرمپ کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں: نوبل انعام 2025 کا پہلا اعلان: مکمل شیڈول اور انعامی رقم جاری

جمعے کی صبح ٹرمپ کے اکاؤنٹ سے درجنوں پوسٹس شیئر کی گئیں جن میں ان کے اسرائیل اور حماس کے درمیان حالیہ فائر بندی معاہدے میں کردار پر تعریفیں repost کی گئیں۔

ایک پوسٹ میں نیوز میکس ٹی وی کا کلپ شامل تھا جس میں اینکر نے ٹرمپ کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کا کریڈٹ دیا، اگرچہ اُس وقت یہ معاہدہ ابھی اسرائیلی کابینہ سے منظور نہیں ہوا تھا۔

ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ نے نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز کے خلاف ورجینیا گرینڈ جیوری کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کا ذکر کیا، جبکہ ایک ویڈیو میں سابق امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین نے ٹرمپ کی مذاکراتی صلاحیتوں کی تعریف کی۔

2 دیگر پوسٹس میں صرف ویڈیوز شامل تھیں جن میں اٹارنی جنرل پم بانڈی کی سینیٹ کمیٹی میں جارحانہ گواہی دکھائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:’مجھے یقین نہیں آرہا‘، نوبیل انعام جیتنے کے بعد ماریہ کورینا کا پہلا ردعمل آگیا

اگرچہ ٹرمپ نے نوبیل انعام کے فیصلے پر خاموشی اختیار کی، لیکن ان کے حامیوں نے بھرپور ردعمل دیا۔

اسٹیفن چیونگ، وائٹ ہاؤس کمیونیکیشن ڈائریکٹر، نے لکھا کہ صدر ٹرمپ امن کے معاہدے کرتے رہیں گے، جنگیں ختم کریں گے اور زندگیاں بچائیں گے۔ نوبیل کمیٹی نے ثابت کیا کہ وہ امن پر نہیں، سیاست پر یقین رکھتی ہے۔

اسی دوران جارجیا کے رکنِ کانگریس بڈی کارٹر نے ٹی وی پر ٹرمپ کے لیے مہم چلائی اور انعام کے فیصلے پر نظرِثانی کا مطالبہ کیا۔

ٹرمپ طویل عرصے سے نوبیل انعام کے خواہش مند رہے ہیں اور انہیں امید تھی کہ اسرائیل-حماس فائر بندی معاہدہ انہیں یہ اعزاز دلوا دے گا۔

تاہم انہوں نے بدھ کے روز ایک سوال کے جواب میں محتاط لہجے میں کہا، مجھے نہیں معلوم، لیکن میں نے سات جنگیں ختم کیں، آٹھویں قریب ہے، شاید روس والا مسئلہ بھی حل کر لیں۔ لیکن ہو سکتا ہے وہ پھر بھی مجھے نہ دیں۔

یہ بھی پڑھیں: نوبیل انعام پانے والوں میں سعودی سائنسدان عمر بن مونس یاغی بھی شامل

اگر ٹرمپ جیت جاتے تو وہ نوبیل امن انعام حاصل کرنے والے پانچویں امریکی صدر بنتے، ان سے پہلے تھیوڈور روزویلٹ (1906)، ووڈرو ولسن (1919)، جمی کارٹر (2002) اور باراک اوباما (2009) کو یہ اعزاز مل چکا ہے۔

خود ٹرمپ نے فی الحال اس فیصلے پر کوئی لفظ نہیں کہا، مگر ان کے حامیوں کے مطابق، یہ انعام نہیں بلکہ انصاف کی کمی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم