وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی ہے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی چاہیئے۔ موجودہ موقف اور جدوجہد کامیابی تک جاری رہے گی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس جنگ میں کامیابی حاصل کریں گے۔ گزشتہ اقتدار کے دوران عمران خان کے حکم پر اسی دن استعفیٰ بھی دے دیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: گورنر خیبر پختونخوا نے علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ اعتراض لگا کر واپس کردیا
وزیرِ اعلیٰ کا کہنا تھا کہ عمران خان کے کہنے پر اسی دن استعفیٰ دیا تھا، جمہوریت کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے، اس عمل میں کم از کم تاخیری حربے استعمال نہ کرے، ہماری پارٹی ہماری مرضی، ہمارا لیڈر اور ان کا فیصلہ۔
اپنی وزارت اعلیٰ کے دوران مالیاتی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ جب میں وزیراعلیٰ بنا تو خزانہ خالی تھا مگر اب خزانے میں 280 ارب روپے موجود ہیں۔ بحیثیتِ وزیراعلیٰ جو بھی فیصلے کیے گئے وہ سب ریکارڈ پر ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ ان کی جدوجہد عمران خان کے لیے ہے کیونکہ وہ اس قوم کی جنگ لڑ رہا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ سب کو ملکی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ عمران خان بارہا کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے لیے وہ اپنی ذات سے بالاتر ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: دونوں استعفوں پر موجود دستخط میرے ہی ہیں، گورنر کے اعتراض لگانے پر علی امین گنڈاپور کا ردعمل
انہوں نے تمام فریقین کو مشورہ دیا کہ سب مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں اور آگے بڑھیں۔














