وزیراعلیٰ پنجاب کے جیل ریفارمز ایجنڈے پر عملدرآمد کے سلسلے میں محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے کی جیلوں کے لیے 32 جونیئر سائیکالوجسٹس کی انڈکشن ٹریننگ مکمل کر لی۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دے دی
اس موقع پر محکمہ داخلہ میں اسناد کی تقسیم کی تقریب منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی چیئرپرسن کابینہ کمیٹی برائے امن و امان خواجہ سلمان رفیق تھے۔
تقریب میں اعلیٰ افسران کی شرکت
تقریب میں آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر، ڈی آئی جی سالک جلال، ڈی آئی جی نوید رؤف، ایڈیشنل سیکرٹری پریزن رومان بورانہ، ڈائریکٹر پروبیشن اینڈ پیرول عارف عزیز، ڈپٹی سیکرٹری پریزن تہنیت بخاری اور سینئر سائیکالوجسٹ پریزن سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔

تربیت کے اہم نکات
21 روزہ تربیت کے دوران ماہرینِ نفسیات کو جیل خانہ جات کے قواعد و ضوابط، قیدیوں کی سکریننگ، قید کے دوران کاونسلنگ، پریزن مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم اور پروبیشن و پیرول سروس کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔
قیدیوں کی اصلاح ریاستی ترجیح
خواجہ سلمان رفیق نے اپنے خطاب میں کہا کہ قیدیوں کی اصلاح ایک قومی و سماجی ذمہ داری ہے اور محکمہ داخلہ پنجاب اس مقصد کے لیے مختلف تربیتی پروگرامز پر عمل کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب اسکولوں کے تدریسی اوقات تبدیل، نئے شیڈول کا اطلاق
انہوں نے بتایا کہ ’ہنرمند اسیر پروگرام‘ کے تحت قیدیوں کو ہنر سکھا کر معاشرے کا مفید شہری بنانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
نفسیاتی ماہرین کا کردار کلیدی قرار
آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر نے کہا کہ جیلوں میں تعینات ماہرینِ نفسیات قیدیوں کی شخصیت میں بھلائی اور مثبت سوچ کو اجاگر کریں گے۔

انہوں نے زور دیا کہ قیدیوں کی ذہنی صحت کی بحالی اور ان کی سماجی بحالی پر خصوصی توجہ دی جائے۔
تربیت کی تکمیل پر اسناد کی تقسیم
تقریب کے اختتام پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ ترجمان کے مطابق تمام افسران اب اپنی تعیناتی کے مقامات پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔













