فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ نے اعلان کیا ہے کہ آج ایک اور اسرائیلی یرغمالی کی لاش حوالے کی جائےگی، تاہم اس کے لیے حالات سازگار ہونے ضروری ہیں۔
تنظیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر اسرائیل کی جانب سے کوئی نئی فوجی کارروائی یا جارحیت یرغمالی کی لاش تلاش کرنے کے عمل میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج کا غزہ پر نیا حملہ، جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے جنوبی اور وسطی غزہ میں فضائی اور توپ خانے کے حملے تیز کر دیے ہیں۔
حماس نے امریکی محکمہ خارجہ کے اس بیان کو بھی مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ’قابلِ اعتماد رپورٹس‘ کے مطابق حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
اتوار کو جاری اپنے بیان میں حماس نے کہا کہ امریکی الزامات جھوٹے، گمراہ کن اور مکمل طور پر اسرائیلی پروپیگنڈے کے مطابق ہیں، جن کا مقصد غزہ میں جاری اسرائیلی مظالم کو جواز فراہم کرنا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکا کی طرف سے یہ مؤقف اسرائیل کے منظم حملوں اور فلسطینیوں کے خلاف جرائم کے تسلسل کو تقویت دیتا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے قبل ازیں دعویٰ کیا تھا کہ حماس شہریوں پر حملے کی تیاری کر رہی ہے، جو جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی ہوگی، اور ثالث ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ حماس پر دباؤ ڈالیں کہ وہ امریکا کی حمایت یافتہ امن معاہدے کی پاسداری کرے۔
الجزیرہ نے طبی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جنگ بندی کے آغاز سے اب تک غزہ میں کم از کم 51 فلسطینی اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں، جب کہ 150 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی، حملے میں 9 فلسطینی شہید
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی کارروائیاں وقفے وقفے سے جاری ہیں، جس سے جنگ بندی کی پائیداری پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔














