صدر ٹرمپ کا حماس کو ’تیز، شدید اور بے رحم‘ کارروائی کا انتباہ 

منگل 21 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو دھمکی دی ہے کہ اگر اس نے ’صحیح قدم‘ نہ اٹھایا تو اس کے خلاف ’تیز، شدید اور بے رحم‘ کارروائی کی جائے گی۔

یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا ہے جب وہ غزہ میں بارہا کمزور پڑنے والی جنگ بندی کے بعد اس کے اگلے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حماس نے ایک اور یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے کردی، غزہ میں امدادی سامان کے داخلے کا مطالبہ

صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پرپوسٹ کیے گئے پیغام کو وائٹ ہاؤس کے ہینڈل سے بھی ایکس پر شیئر کیا گیا ہے۔

صدر نے لکھا کہ متعدد امریکی اتحادی غزہ میں داخل ہو کر حماس پر حملہ کرنے کے خواہاں ہیں، مگر انہوں نے ان ممالک اور اسرائیل دونوں کو فی الحال ایسا نہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔

 https://Twitter.com/WhiteHouse/status/1980623129434288500

اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا رہے ہیں، جس پر 8 روز قبل دستخط کیے گئے تھے۔

تنازع کا مرکز مغویوں کی لاشوں کی واپسی، امداد کی فراہمی اور سرحدوں کے کھلنے کے حوالے سے تاخیر ہے۔

نائب صدر وینس کا اسرائیل کا دورہ

امریکی نائب صدر جے ڈی ویانس منگل کے روز اسرائیل پہنچے جہاں وہ بدھ کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کریں گے۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ملاقات میں سیکیورٹی چیلنجز اور سیاسی امکانات پر بات ہوگی۔

ویانس کا یہ دورہ صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی جنگ بندی منصوبے سے متعلق ہے، جس کے تحت موجودہ غیر مستحکم جنگ بندی کے بعد اگلے مرحلے میں حماس کا غیر مسلح ہونا اور ایک فلسطینی ریاست کی راہ ہموار کرنا شامل ہے۔

مزید پڑھیں:حماس غیرمسلح ہو جائے ورنہ ہم طاقت کے ذریعے کر دیں گے، ٹرمپ کی پھر وارننگ

یہ دورہ نیتن یاہو کی امریکی ایلچی اسٹیون وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر سے ملاقات کے اگلے دن ہو رہا ہے، جبکہ دوسری جانب قاہرہ میں حماس کے مذاکرات جاری ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسرائیل حماس کے غیر مسلح ہونے کی مزید یقین دہانی چاہتا ہے، تاہم حماس نے اس پر ابھی تک آمادگی ظاہر نہیں کی ہے۔

ٹرمپ کا منصوبہ: حماس حکومت میں شامل نہیں ہوگی

صدر ٹرمپ کے منصوبے میں ایک ٹیکنوکریٹ فلسطینی کمیٹی کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جو بین الاقوامی بورڈ کی نگرانی میں کام کرے گی، اور حماس کو کسی حکومتی کردار سے خارج رکھا جائے گا۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق حماس نے اس کمیٹی کی تشکیل پر اتفاق کیا ہے، بشرطیکہ اسے خود، فلسطینی اتھارٹی اور دیگر دھڑوں کی حمایت حاصل ہو۔

تاہم حماس کے سینئر رہنما محمد نزال نے کہا کہ گروپ غزہ میں ایک عبوری دور کے دوران سیکیورٹی کردار برقرار رکھے گا۔

لاشوں کی واپسی اور امداد کی فراہمی

حماس کے رہنما خلیل الحیہ نے مصری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ گروپ جنگ بندی کی مکمل پاسداری کر رہا ہے اور پہلے مرحلے میں مغویوں کی لاشوں کی واپسی جیسے وعدے پورے کرے گا۔

حماس نے پیر کو ایک مغوی کی لاش واپس کی جبکہ 2 مزید منگل کی رات دینے کا اعلان کیا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ مزید لاشوں کی واپسی کا عمل پیچیدہ مگر ممکن ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے منگل کو 15 فلسطینی لاشیں واپس کیں، جس سے اب تک واپس کیے جانے والے فلسطینیوں کی تعداد 165 ہو گئی ہے۔

غزہ میں امدادی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے، تاہم اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق یہ ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ہے۔

عالمی ادارہ خوراک کے مطابق روزانہ 2000 ٹن امداد کا ہدف پورا نہیں ہو رہا کیونکہ صرف 2 گزرگاہیں کھلی ہیں، اور شمالی غزہ تک اب تک امداد نہیں پہنچی۔

مزید پڑھیں:ٹرمپ کا ہیرو کون؟

غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فائرنگ کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 7 فلسطینی جاں بحق ہوئے، جس سے جنگ کے آغاز سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد 68,229 ہو گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟