غزہ میں بھوک کا بحران بدستور سنگین، جنگ بندی کے باوجود انسانی المیہ برقرار

جمعہ 24 اکتوبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے سربراہ ٹیڈروس اذہانوم گیبریسوس نے کہا ہے کہ جنگ بندی کے دو ہفتے بعد بھی غزہ میں بھوک اور غذائی قلت کا بحران ’انتہائی تباہ کن‘ صورت اختیار کر چکا ہے، جب کہ امدادی تنظیموں نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ امدادی سامان کو “من مانی” بنیادوں پر روکے ہوئے ہے۔

خوراک کی شدید کمی اور ناکافی امداد

عالمی ادارۂ خوراک (WFP) کے مطابق غزہ میں روزانہ 2000 ٹن امدادی سامان کی ضرورت ہے، مگر صرف 750 ٹن کے قریب خوراک داخل ہو رہی ہے، کیونکہ اسرائیل نے صرف دو کراسنگ پوائنٹس، کرم ابو سالم اور الکرارہ کھولے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو غزہ میں انسانی بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا

امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ موجودہ فراہمی مقامی آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

41 امدادی اداروں کا اسرائیل پر الزام

جمعرات کے روز 41 بین الاقوامی تنظیموں، بشمول آکسفیم اور ناروے ریفیوجی کونسل، نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ امدادی سامان کو  بلا جواز روک رہا ہے۔

ان تنظیموں نے ایک مشترکہ خط میں بتایا کہ 10 سے 21 اکتوبر کے درمیان 99 بین الاقوامی تنظیموں کی درخواستیں مسترد کی گئیں، جبکہ اقوام متحدہ کی چھ درخواستیں بھی منظور نہیں کی گئیں۔ مسترد کیے گئے سامان میں خیمے، کمبل، خوراک، صفائی کا سامان اور بچوں کے کپڑے شامل تھے۔

قحط کے اثرات اور غذائی قلت کی شدت

اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق، غزہ کی ایک چوتھائی آبادی شدید بھوک کا شکار ہے، جن میں 11,500 حاملہ خواتین شامل ہیں۔

یونائیٹڈ نیشنز پاپولیشن فنڈ کے نائب سربراہ اینڈریو سیبرٹن کے مطابق، 70 فیصد نوزائیدہ بچے کم وزن یا قبل از وقت پیدا ہو رہے ہیں، جو غذائی قلت کے طویل مدتی اثرات کا ثبوت ہیں۔

اشیائے خور و نوش کی قیمتیں آسمان پر

فلسطینی تنظیم PARC کے ترجمان بہاء زقوت کے مطابق، بازار میں بنیادی غذائی اشیاء بھی ناقابلِ خرید ہیں۔ ایک کلو ٹماٹر جو پہلے ایک شیکل میں ملتا تھا، اب 15 شیکل میں فروخت ہو رہا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ اگرچہ کچھ پھل اور سبزیاں دستیاب ہیں، مگر ان کی قیمتیں عام شہریوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔

عالمی عدالت کا حکم

بین الاقوامی عدالت انصاف (ICJ) نے بدھ کے روز اپنے فیصلے میں اسرائیل کو پابند کیا کہ وہ غزہ کے شہریوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے میدان میں نمایاں عالمی پیش رفت، اے آئی انڈیکس درجہ بندی میں بہتری

بلوچستان میں افسران کی فیلڈ میں موجودگی یقینی بنانے کے لیے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ

سعودی عرب کا پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر اضافی معاونت کا اعلان، 5 ارب ڈالر ڈپازٹ کی مدت میں توسیع

ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، جے ڈی وینس، وٹکاف اور جیرڈ کشنر حصہ لیں گے، سی این این

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

ویڈیو

مریم نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے 2 برس، لوگ کیا کہتے ہیں؟

پاکستان کی ثالثی نے دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹ کو بچا لیا

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

کالم / تجزیہ

محبت، کتابیں اور دستوئیفسکی کے ’بیچارے لوگ‘

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا