وزیرِاعظم شہباز شریف نے سیلز ٹیکس فراڈ میں ملوث اداروں، کمپنیوں اور افراد کی نشاندہی کے لیے تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے ماضی میں پیش آنے والے ٹیکس فراڈ کے واقعات پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: فائنانس بل 26-2025 : ٹیکس فراڈ میں مدد دینے والے اکاؤنٹ ہولڈر کو ’معاونِ جرم‘ سمجھا جائے گا
انہوں نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ یعنی پی آر اے ایل کے نظام کا فورینزک آڈٹ کسی بین الاقوامی کنسلٹنسی فرم سے کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی کو 3 ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی واضح کیا کہ رپورٹ میں شناخت ہونے والے افراد یا اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

اجلاس کے دوران وزیرِاعظم کو ایف بی آر خصوصاً پی آر اے ایل میں جاری اصلاحاتی اقدامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ پی آر اے ایل کے نظام میں متعدد جدید ڈیجیٹل سیکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا چکے ہیں، جن میں آڈٹ والٹ، ڈیٹا بیس پروٹیکشن وال، سیکیورٹی آپریشنز سینٹر، مسلسل نگرانی کا نظام اور دیگر حفاظتی تدابیر شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: سینیٹرز نے ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کو 10 سال قید سزا کی تجویز کو مسترد کردیا
مزید بتایا گیا کہ اپ گریڈ شدہ نظام اب ہر بار ڈیٹا میں کسی بھی تبدیلی پر متعلقہ صارف کے آئی پی ایڈریس کو ریکارڈ کرتا ہے، جس سے ٹیکس فراڈ تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔
بریفنگ میں اس بات کا بھی حوالہ دیا گیا کہ 2018-2019 سے شروع ہونے والے سیلز ٹیکس فراڈ کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی حقائق معلوم کرنے والی کمیٹی نے اپنی رپورٹ جمع کرادی ہے۔
مزید پڑھیں: ایف بی آر کو ٹیکس فراڈ پر کمپنی سی ای اوز اور ڈائریکٹرز کی گرفتاری کا اختیار مل گیا
مذکورہ رپورٹ میں فراڈ کی بنیادی وجہ پی آر اے ایل کے پرانے نظام، نگرانی کے فقدان اور غیر محفوظ ڈیٹا بیس کو قرار دیا گیا۔
یہ بھی بتایا گیا کہ وزیرِاعظم نے اس معاملے کا پہلے ہی نوٹس لیتے ہوئے کمیٹی کی تشکیل کی ہدایت کی تھی، اب متعدد اصلاحات نافذ کی جا چکی ہیں تاکہ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹیکس فراڈ کیس میں ملزم کو 100 روپے کے عوض ضمانت کیوں دی؟
اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر نے حال ہی میں واشنگٹن میں منعقدہ ورلڈ بینک کی سالانہ کانفرنس میں شرکت کی، جہاں ایف بی آر کی اصلاحاتی کوششوں پر مبنی کیس اسٹڈی کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا۔
وزیرِاعظم نے اس کامیابی پر ایف بی آر کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا۔













