27ویں آئینی ترمیم پاس ہوچکی، 28ویں ترمیم کی بات کریں، سینیٹر فیصل واوڈا کا دعویٰ

پیر 10 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ عسکری قیادت ہماری ڈیفنس لائن ہے، ہم اُسے جتنا مضبوط کرنا چاہتے ہیں، اُس سے زیادہ کریں گے، کوئی کمی بیشی ہو گی تو وہ بھی پوری کریں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پراپیگنڈہ اور احتجاج کرنے والے بھاڑ میں جائیں چڑھائی کسی کا باپ بھی نہیں کر سکتا، تحریک انصاف کی صرف باتیں سُن رہا ہوں سڑکوں پر نہیں دیکھ رہا۔

یہ بھی پڑھیے: مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوگئی، آئینی ترمیم منظور ہوتی نظر آرہی ہے، فیصل واوڈا

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم منظور ہوچکی ہیں ہم صرف جمہوری روایتیں پوری کرنے آئے ہیں، اب 28ویں ترمیم کی بات کریں۔ فیصل واوڈا اس موقع پر صحافیوں کے لیے مٹھائی بھی لے آئے۔

فیصل واوڈا نے وزیراعظم کے اپنے آپ کو دیے جانے والے فوجداری مقدمات سے استثنیٰ کی تجویز واپس لینے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہت زبردست کام کیا۔ میں ان کی اس بات پر قدر کرتا ہوں کہ انہوں نے جمہوری روایات کے تحت بہت اچھا اقدام کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ہمارے بڑے ہیں ہم ان سے سیاست سیکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی کردی، پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ

بھارت: ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نے تقریب میں مسلمان خاتون کا نقاب کھینچ دیا، شدید تنقید کا سامنا

چیف جسٹس کے قتل پر اکسانے کا الزام، کالعدم ٹی ایل پی کے رہنما ظہیر الاسلام کو 35 سال قید کی سزا

تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کے بیانات کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہیں، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

ویڈیو

فیض حمید کے بعد جنرل باجوہ کا نمبر؟ سہیل آفریدی کی پالیسی مکمل ناکام

خیبر پختونخوا میں بھی افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کارروائیاں شروع، کیا کے پی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو گئی؟

چارسدہ کا ماحول دوست سروس اسٹیشن: صفائی اور پانی کی بچت ایک ساتھ

کالم / تجزیہ

اگلی بار۔ ثاقب نثار

جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام پاکستان میں کیوں نہیں؟

شاعرِ مشرق اور مصورِ مشرق کی پتنگ بازی