بلوچستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل

منگل 11 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر صوبے بھر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کے اعلامیہ کے مطابق یہ معطلی 16 نومبر تک برقرار رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں انٹرنیٹ سروسز کیوں متاثر ہیں؟

محکمہ داخلہ کے مطابق حب، چمن، واشک، جھل مگسی، لسبیلہ، ژوب، قلات، ہرنائی، شیرانی، پنجگور، زیارت، لو رالائی، صحبت پور، خاران، مو سی خیل، کیچ، کچھی، سوراب، مستونگ، خضدار میں آج سے 16 نومبر تک موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی۔

اس دوران اوستہ محمد، دکی، کوہلو، سبی، نوشکی، بارکھان، قلعہ سیف اللہ، جعفر آباد، آواران، قلعہ عبد اللہ، چاغی، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی، گوادر اور پشین سمیت دیگر اضلاع میں بھی موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں پبلک ٹرانسپورٹ کی معطلی کا فیصلہ واپس لے لیا گیا

انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے طلبا، تاجروں اور صحافیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل صوبائی حکومت کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ 14نومبر تک معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو اب واپس لے لیا گیا ہے، جبکہ 13نومبر تک صوبے میں جعفر ایکسپرس کی سروس معطل رہے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار