سعودی طبی ماہرین  کا ایک اور کارنامہ، جسمانی طور پر جڑی ہوئی بچیوں کو علیحدہ کردیا

جمعرات 13 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی دارالحکومت ریاض میں طبی وجراحی ماہرین نے جسمانی طور پر جڑی ہوئی جمائیکا کی سیامی بچیوں (ازاریا) اور (ازورا) کو کامیابی سے علیحدہ کردیا۔

سعودی ’الاخباریہ‘ چینل کے مطابق ابتدائی جراحی کی تکمیل کے بعد ٹیم نے دونوں بچیوں کو الگ کر کے علیحدہ بستروں پر منتقل کیا۔

یہ بھی پڑھیے سعودی عرب میں شامی جڑواں بچیوں کی کامیاب علیحدگی، انسانیت اور میڈیکل سائنس کی نئی مثال

ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ، طبی وجراحی ٹیم کے سربراہ اور دیوانِ شاہی کے مشیر کے مطابق دونوں بچیاں 28 جولائی کو مملکت پہنچی تھیں۔ اسپتال میں داخلے کے اُن کے تفصیلی معائنے کیے گئے اور مختلف کمیٹیوں نے انہیں آپریشن کے لیے موزوں قرار دیا۔

طبی رپورٹ کے مطابق بچیاں سینے کے نچلے حصے، پیٹ اور جگر کے مقام پر جڑی ہوئی تھیں، جبکہ آنتوں اور دل کی جھلی میں بھی اشتراک کا امکان تھا۔

یہ بھی پڑھیے ریاض: جُڑی ہوئی سعودی جڑواں بچیوں یارا اور لارا کی کامیاب علیحدگی، مجموعی تعداد 65 ہو گئی

مزید یہ کہ ایک بچی میں شدید پیدائشی نقص موجود تھا، جس کے باعث دل کی پمپنگ صرف 20 فیصد تک محدود تھی، جس نے آپریشن کے خطرات کو 40 فیصد تک بڑھا دیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی کردی، پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ

بھارت: ریاست بہار کے وزیراعلیٰ نے تقریب میں مسلمان خاتون کا نقاب کھینچ دیا، شدید تنقید کا سامنا

چیف جسٹس کے قتل پر اکسانے کا الزام، کالعدم ٹی ایل پی کے رہنما ظہیر الاسلام کو 35 سال قید کی سزا

تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے کے لیے جامع حکمت عملی بنانے کا فیصلہ

پی ٹی آئی کے بیانات کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہیں، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

ویڈیو

فیض حمید کے بعد جنرل باجوہ کا نمبر؟ سہیل آفریدی کی پالیسی مکمل ناکام

خیبر پختونخوا میں بھی افغان باشندوں کی واپسی کے لیے کارروائیاں شروع، کیا کے پی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہو گئی؟

چارسدہ کا ماحول دوست سروس اسٹیشن: صفائی اور پانی کی بچت ایک ساتھ

کالم / تجزیہ

اگلی بار۔ ثاقب نثار

جرمنی کا ٹاؤن رائٹرز پروگرام پاکستان میں کیوں نہیں؟

شاعرِ مشرق اور مصورِ مشرق کی پتنگ بازی