حسینہ واجد کی سزائے موت کے فیصلے کے بعد ملک گیر تشدد، سینکڑوں گرفتار

منگل 18 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

.

.

بنگلہ دیش میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو ٹربیونل کی جانب سے سزائے موت کے حالیہ فیصلے کے بعد ملک گیر بے چینی اور پرتشدد واقعات کے تناظر میں پولیس نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مجموعی طور پر 1,649 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

یہ اعداد و شمار منگل کو پولیس ہیڈکوارٹر کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں فراہم کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارت شیخ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کے حوالے کرنے کا پابند

بیان کے مطابق ملک بھر میں مختلف چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 10 اسلحے، 30 کلوگرام سے زائد بارود، گولیاں اور متعدد دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔

یہ کارروائیاں اُس فیصلے کے ایک روز بعد تیز کی گئیں جس میں انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے جولائی قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور سابق وزیرِ داخلہ اسد الزمان خان کمال کو سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

فیصلے کے بعد ڈھاکا سمیت مختلف اضلاع میں آتشزدگی، توڑ پھوڑ اور دھماکوں کے واقعات پیش آئے تھے۔

مزید پڑھیں: اقوامِ متحدہ کا بنگلہ دیش میں سیاسی جماعتوں پر پابندیوں پر گہری تشویش کا اظہار

گزشتہ ہفتے کے دوران ملک بھر میں 40 سے زائد گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا، جبکہ متعدد مقامات پر دیسی بموں سے بھی دھماکے کیے گئے۔

صورتحال کے پیش نظر دارالحکومت میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور بدامنی کے امکانات کے پیشِ نظر ہزاروں اضافی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملک گیر کریک ڈاؤن کا سلسلہ نظم و نسق بحال رکھنے اور سیاسی طور پر حساس فیصلے کے بعد پیدا شدہ حالات کو قابو میں رکھنے تک جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp