وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیاست کا مقصد عوام کا مقدمہ لڑنا ہے، موسمیاتی تبدیلی سے لوگوں کو نقصانات بھی سیاست کا موضوع ہونا چاہیے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری جی ڈی پی 2، 3 فیصد بڑھتا ہے لیکن صرف 2022 کے سیلاب کے نقصانات ملک کی 9 فیصد جی ڈی پی کے برابر تھے، 2010 کے بعد 5 سیلاب آگئے۔
یہ بھی پڑھیے: سیلاب کے باعث جی ڈی پی گروتھ کی متوقع شرح میں کمی ہوسکتی ہے، وزیر خزانہ
انہوں نے سوال اٹھایا کہ 4700 لوگ پچھلے 2، 3 سیلابوں میں جاں بحق ہوئے، اتنے لوگ پچھلی جنگوں میں شہید نہیں ہوئے، ان سیلابوں میں 4 کروڑ لوگ دربدر ہوئے، اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی جانیں ہماری سیاست کا مقدمہ ہونا چاہئیں یا نہیں؟
ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ہماری سیاست میں بیان بازیوں سے ہٹ کر ان حقیقی عوامی مسائل پر بھی بات ہونی چاہیے، میڈیا کو چاہیے کہ ان معاملات کے حوالے سے سوالات پوچھتے رہیں تاکہ اس سے سیاسی دباؤ پیدا ہگا اور سخت فیصلے لیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگلے سال مون سون سے نمٹنے کے لیے آج منصوبہ لے کر وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے گئے، سیلاب سمیت قدرتی آفات اور ان کا مقابلہ کرنے سے متعلق تمام پہلوؤں پر بات ہوئی، مختصر اور طویل مدت پر مبنی پالیسیز سامنے رکھے گئے جنہیں وزیراعظم نے منظور کیا، یہ پالیسیز 3 مراحل پر مشتمل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: سیلابی تباہی کا تخمینہ 822 ارب روپے، وزارتِ منصوبہ بندی کی رپورٹ جاری
وفاقی وزیر نے کہا کہ 200 دنوں کے اندر پچھلے سیلاب سے تباہ ہونے والے انفراسٹرکچر کو دوبارہ بنایا جائے گا، آفات کی پیشگی اطلاع دینے والے نظام فعال اور ایک ساتھ مربوط کیے جائیں گے، آفات آنے پر امدادی کیمپوں میں بھی اسکولوں کا انتظام کیا جائے گا تاکہ بچوں کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔













