چترال حملے میں ملوث طالبان لیڈر ٹی ٹی پی کنٹرول کمیشن کا سربراہ مقرر

جمعہ 21 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان طالبان نے ایک ایسے رہنما کو کالعدم ٹی ٹی پی کو کنٹرول کرنے والے ’اصلاحی کمیشن‘کا سربراہ مقرر کیا ہے، جو ماضی میں پاکستان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث رہا ہے۔

مولوی قاسم خالد، ایک متنازع تعیناتی

گزشتہ دنوں افغان طالبان نے مولوی قاسم خالد کو اصلاحی کمیشن کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ اس شخصیت کا تعلق حقانی نیٹ ورک سے سمجھا جاتا ہے اور وہ صوبہ نمروز، کابل اور کنڑ کے گورنر رہ چکے ہیں۔

جب وہ کنڑ کے گورنر تھے تو 2023 میں چترال پر ٹی ٹی پی کا بڑا حملہ ہوا تھا، جس میں مولوی قاسم خالد نے ٹی ٹی پی کو سہولت کاری فراہم کی، حملے کی منصوبہ بندی کروائی، ٹی ٹی پی کے گروہوں کو منظم کیا۔

یہ بھی پڑھیے طالبان نے پُرامن چترال اور کیلاش کو نشانہ کیوں بنایا؟

پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کے مطابق مولوی قاسم خالد نہ صرف سہولت کار بلکہ منصوبہ ساز بھی تھا۔

کمیشن کا کردار

اصلاحی کمیشن بنیادی طور پر امیر کے احکامات پر عمل درآمد کی نگرانی کرتا ہے، افغان سیکیورٹی فورسز میں ڈسپلن پر نظر رکھتا ہے، افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی ’جہادی کارروائیوں‘  پر نظر رکھتا ہے۔  ٹی ٹی پی، حافظ گل بہادر گروپ اور دیگر عسکری گروہوں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینا بھی اسی کمیشن کی ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیے   چترال میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 7 دہشت گرد ہلاک، 6 زخمی

دلچسپ (اور پاکستان کے لیے تشویش ناک) بات یہ ہے کہ  اسی شخص کو ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کی نگرانی کا ذمہ دیا گیا ہے جو خود ان کی مدد کرتا رہا ہے۔

پاکستان کی تشویش

پاکستان کا مؤقف ہے کہ حقانی نیٹ ورک کا ٹی ٹی پی کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کر رہے ہیں۔ا ور  ایسی تقرریاں افغان طالبان رجیم کی پالیسی کا واضح اشارہ ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان افغانستان تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ تاہم ماہرین اس فیصلے کو ناقابل فہم بھی قرار دیتے ہیں کہ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کشیدگی کے باعث افغان عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں