ضمنی انتخابات میں کامیابی، کیا ن لیگ اب پیپلز پارٹی کی محتاج نہیں رہی؟

پیر 24 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اتوار کے روز ہونے والے قومی اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن  نے تمام 6 خالی نشستیں جیت لی ہیں۔

اب پارٹی ایوان میں سادہ اکثریت حاصل کر لے گی اور حکومتی استحکام کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی پر انحصار تقریباً ختم ہو جائے گا۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کے پاس 126 نشستیں ہیں۔ 6 نشستیں جیتنے سے یہ تعداد 132 ہو جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب و خیبرپختونخوا کے ضمنی انتخابات، غیر حتمی نتائج میں ن لیگ کی مجموعی برتری

اس کے علاوہ ن لیگ کو ایم کیو ایم کے 22، مسلم لیگ (ق) کے 5، استحکام پاکستان پارٹی کے 4، مسلم لیگ ضیا، بلوچستان عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن اور 4 آزاد اراکین کی حمایت پہلے سے حاصل ہے۔

یوں کل حمایت 170 اراکین تک پہنچ جائے گی، جبکہ 336 رکنی قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت کے لیے صرف 169 اراکین درکار ہوتے ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نشستیں جیتنا موجودہ مخلوط حکومت کی مضبوطی کے لیے کلیدی حیثیت کی حامل ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق ن لیگ نے اگرچہ سادہ اکثریت لے لی ہے لیکن انہیں پیپلزپارٹی کے بطور اتحادی ضرورت رہے گی، لیگی حکومت قومی اسمبلی میں سادہ اکثریت  سے ایکٹ وغیرہ تو پاس کروا سکتی ہیں مگر اکیلے کوئی آئینی ترمیم پاس نہیں کروا سکتے کیونکہ اس کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے، دو تہائی اکثریت کے لیے 224 ارکان کے ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: پنجاب کے13 حلقوں میں ضمنی انتخابات، سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات

ایسا نہیں ہوسکتا کہ ن لیگ از خود 28  ترمیم منظور کروا لے، اس کے لیے انہیں پیپلزپارٹی کی ضرورت پڑے گی، حکومت، پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد بنائے رکھے گی، پیپلزپارٹی اس صورتحال میں کیا سوچ رکھتی اس حوالے سے کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ البتہ ایسا لگتا ہے کہ پیپلزپارٹی کے پاس حکومت کے ساتھ چلنے کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 4 مطلوب افراد کی گرفتاری میں مدد پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان، اشتہار جاری

حج 2027 کی تیاریوں کا آغاز، رجسٹریشن رواں ماہ متوقع

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے کور ممبران شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی کا آغاز

نوابزادہ جمال رئیسانی کا تیزاب گردی میں ملوث ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

بجٹ 27-2026: تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس ریلیف دینے کا حکومتی منصوبہ، مگر ’آئی ایم ایف‘ کیا کہتا ہے؟

ویڈیو

نوابزادہ جمال رئیسانی کا تیزاب گردی میں ملوث ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

وزیر اعظم اور صدر مملکت کی اہم ملاقات، بجٹ منظوری اور سیاسی مفاہمت کی راہ ہموار

پی ٹی آئی حکومت اختلافات کا شکار، کارکردگی صفر، پشاور کے شہریوں کی رائے

کالم / تجزیہ

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟