عمران خان صرف اکیلا مجرم نہیں، اس کو لانے والے اس سے بھی بڑے مجرم ہیں، نواز شریف

بدھ 26 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان صرف اکیلا مجرم نہیں، اس کو لانے والے بھی اس سے بڑے مجرم ہیں جو اس کو لے کر آئے ان سے پورا پورا حساب لینا چاہیے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے نومنتخب ارکانِ پارلیمنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں پارلیمان کا رکن منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور کہا کہ لوگوں نے حکومت کی کارکردگی پر آپ کو ووٹ دیا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ 2017 میں ملک کہاں جارہا تھا اور اس کے بعد کہاں چلا گیا۔ میں نے ملک کی آئی ایم ایف سے جان چھڑائی تھی، اس کے بعد 2018 سے 2022 تک ملک میں کیا ہوتا رہا۔ ہمارے کام کی رفتار جاری رہتی تو آج دنیا میں ہمارا ایک مقام ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے ن لیگی امیدواروں کو نواز شریف کی مبارکباد

انہوں نے کہا کہ حکومتی اقدامات سے مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے۔ پنجاب اور وفاق کی حکومتیں دن رات محنت کر رہی ہیں۔ بانی پی ٹی آئی اکیلا نہیں، اس کو لانے والے بھی مجرم ہیں۔ دوسروں کو چور ڈاکو کہنے والے خود ڈاکے مارنے میں سب سے آگے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2017 میں ہماری مہنگائی 3 فیصد تھی، پی ٹی آئی دور میں 39 فیصد تھی، اب پھر کم ہوگئی ہے۔ ہم نے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا۔ پنجاب میں غریبوں کے لیے 20 لاکھ نئے گھر بن رہے ہیں، اسپتال بن رہے ہیں، طلبا کو لیپ ٹاپ مل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب میں 1999 میں وزیراعظم تھا تو سعودی ریال 11 روپے تھا، جب پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا تھا، ان لوگوں نے ملک میں بہت تباہی پھیری ہے، بدتمیزی، بدتہذیبی اور دنگا فساد سے ملک کا بالکل دیوالیہ نکال دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جاتی امرا میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سیکیورٹی میں اضافہ

نواز شریف نے مزید کہا کہ ملکی ترقی کی رفتار وہی رہتی جو ہمارے دور میں تھی تو آج ملک کہاں ہوتا، نہ ہمیں آئی ایم ایف کی فکر ہوتی نہ اسٹاک ایکسچینج کی، آج کل ہم اس چکر میں ہیں کہ ملک کے اثاثے کتنے ہیں، آئی ایم ایف ہمیں یہ کرنے دے گا یا نہیں کرنے دے گا، ہم اپنے بہت سے فیصلے خود نہیں کرسکتے، ہمارے فیصلے غیروں کے ہاتھ میں ہیں۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے ڈیڑھ سال میں عوامی خدمت کا ایک ریکارڈ قائم کیا ہے اور ملک کو ایک بار پھر گڑھے سے باہر نکالا ہے، ملک ایک بار پھر اڑان بھر چکا ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے لاہور میں مسلم لیگ ن کے نومنتخب ارکان پارلیمنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہیں پارلمیمان کا رکن منتخب ہونے پر مباردکباد دی اور انہیں کہا کہ لوگوں نے حکومت کی کارکردگی پر آپ کو ووٹ دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ کے شرکا کی ملاقات

انہوں نے کہا کہ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ شہبازشریف اور مریم نواز ہم بہت محنت کر رہے ہیں اور وہ مقام دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہم نے کھو دیا تھا۔ یہی درست راستہ ہے، اور یہ ایک بہت ہی مشکل کام ہے، ہم پاکستان کو اسی مقام پر واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اللہ کرے ان کی کوششیں کامیاب ہوں، اللہ کرے ان کی کوششیں کامیاب ہوں۔ اور ہم سب کو ان کی مدد کرنی ہے، ہمیں شہباز شریف کی مدد کرنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ساری کہانیاں آپ کے سامنے آرہی ہیں، پوری قوم کے سامنے آرہی ہیں، اور پھر لڑائیاں، جھگڑے، شرارتیں، الزام تراشی، کیا قومیں ایسے ماحول میں ترقی کرتی ہیں؟ آپ بتائیے، غور کریں، کون سی قومیں ایسے ماحول میں ترقی کرتی ہیں؟

سابق وزیراعظم نے کہا کہ مگر آج اللہ کے فضل سے پنجاب میں 1 لاکھ 20 ہزار نئے گھر غریبوں کے لیے بن رہے ہیں، اور وہ گھر لوگوں کو مل رہے ہیں، ان کی چھت، ان کا گھر، اس کی قدر کی جا رہی ہے۔ لوگ مفت دوائیاں حاصل کر رہے ہیں، ایک نئے نظام کے تحت۔ مثال کے طور پر جو نظام شہباز شریف صاحب نے شروع کیا تھا، وہ آیا اور اسے ختم کردیا گیا، مگر اب غریبوں کا مفت علاج بھی ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عرفان صدیقی کی وفات پر اپنا دکھ بیان نہیں کر سکتا، نواز شریف کے مرحوم سینیٹر کے گھر آمد، اہل خانہ سے تعزیت

’ نئے اسپتال بھی شروع ہو رہے ہیں۔ اور طلبہ کو لیپ ٹاپ مل رہے ہیں۔ اسکالرشپس دی جا رہی ہیں، اللہ کے فضل سے۔ اور ستھرا پنجاب اپنا کام دکھا رہا ہے۔ گرین بسیں اللہ کے فضل سے ہر ضلع، ہر شہر پہنچ رہی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ صرف آغاز ہے، اگلے 3 سالوں میں اللہ کے فضل سے کام اس سے بھی آگے نکل جائے گا۔ پنجاب کی سیکیورٹی میں بہت بہتری آئی ہے اور لوگ بڑی حد تک خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ لوگوں کو راشن کارڈ مل رہے ہیں۔ اور یہاں کسی مذہب کے ساتھ کوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی، اللہ کے فضل سے، اپنے بھائیوں بہنوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ اور حکومت نے سراب کے معاملے میں بہت اچھا کام کیا ہے۔

انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کہتے تھے کہ ہم الیکشن کا بائیکاٹ کریں گے۔ وہ سارا بائیکاٹ آپ کے سامنے ہے۔ یہ کیسا بائیکاٹ ہے جس میں ایوب خان کی بہو اور عمر ایوب کی بیوی خود الیکشن لڑ رہی ہیں؟ اور وہ کہتے ہیں بائیکاٹ؟ کیونکہ ہمارے چوہدری صاحب کا بائیکاٹ ہی کچھ ایسا ہے، اُن کے امیدوار کھڑے تھے، اپنے لیڈروں کی تصاویر لگا رہے تھے، مہم چلا رہے تھے، اور پھر بھی کہتے ہیں بائیکاٹ کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ صرف اورصرف نوازشریف کا تھا: مشاہد حسین

ان کا کہنا تھا کہ تو مجھے بتائیں، ہری پور میں، جو پنجاب سے باہر کا علاقہ ہے، جن کے ممبران یہاں بیٹھے ہیں، میں دل کی گہرائی سے آپ سب کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ وہ خود یہاں بیٹھے ہیں، انہوں نے 40 ہزار کی لیڈ سے کامیابی حاصل کی۔ بابر، کیا یہ 40 ہزار کی لیڈ ہے؟ 44؟ یہ 44 ہزار کی لیڈ ہے۔ بتائیے۔ تو یہ ہے ان کا بائیکاٹ۔

اس دور میں، جیسا کہ آپ جانتے ہیں، یہاں ہر روز نئے چیف سیکریٹری آ رہے تھے، ہر تیسرے دن آئی جی بدل رہا تھا، کوئی مستقل پالیسی نہیں تھی، کوئی مستقل پیغام نہیں تھا، اور یہاں کوئی خاطر خواہ کام نہیں ہو رہا تھا۔ کوئی ترقیاتی کام نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے جب بھی کوئی ترقیاتی کام ہوا وہ پاکستان مسلم لیگ نے کیا۔ اللہ کے فضل سے۔ آپ اُن کے نام دیکھ لیں، سب آپ کے دائیں بائیں موجود ہیں۔‘

’مسلم لیگ ن کی حالیہ کامیابیاں اللہ کے فضل اور عوام کے اعتماد کا نتیجہ ہیں‘

اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حالیہ کامیابیاں اللہ کے فضل اور عوام کے اعتماد کا نتیجہ ہیں اور پوری جماعت اس فتح پر شکر گزار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب ہی نہیں بلکہ لاہور، میانوالی، سرگودھا، ساہیوال اور ہری پور تک مسلم لیگ ن کو نمایاں برتری ملی ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام نے انتشار، بدتمیزی اور الزام تراشی کی سیاست کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے سینئر رہنما نانا ثناء اللہ، پرویز رشید، سعد رفیق اور دیگر رہنما مسلسل عوام کے ساتھ کھڑے رہے اور امیدواروں نے اپنے اپنے حلقوں میں انتھک محنت کی۔ مریم نواز کے مطابق میانوالی میں گرین بس سروس کے افتتاح کے موقع پر ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ وہاں سیاسی فضا تبدیل ہو چکی ہے اور عوام خدمت کی سیاست کو ترجیح دے رہے ہیں۔

’جو لوگ مورثی سیاست کا طعنہ دیتے ہیں، وہ خود بیویوں، بھائیوں، کزنوں اور رشتہ داروں کو امیدوار بناتے رہے‘

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے مشکلات، مقدمات، قید و بند، انتقامی کارروائیوں اور خاندانوں پر آنے والی تکالیف کے باوجود کبھی سیاسی جدوجہد سے پیچھے قدم نہیں ہٹایا اور نہ ہی کبھی کسی الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔

 انہوں نے کہا کہ دوسری جماعتوں نے بائیکاٹ کا دعویٰ کیا مگر ان کے امیدوار بھی کھڑے تھے، کیمپ بھی لگے تھے، تصاویر بھی آویزاں تھیں اور مہم بھی چل رہی تھی، لیکن عوام نے انہیں ووٹ دینے سے انکار کر دیا جس سے ان کے بائیکاٹ کے دعوے کی حقیقت کھل کر سامنے آگئی۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ مورثی سیاست کا طعنہ دیتے ہیں، وہ خود بیویوں، بھائیوں، کزنوں اور رشتہ داروں کو امیدوار بناتے رہے اور انتخابات جیت کر بھی اسے بائیکاٹ کا نتیجہ قرار دینے کی کوشش کی۔ مریم نواز کے مطابق عوام اب اصل اور نقل میں فرق سمجھ چکے ہیں اور عوامی شرکت نے واضح کر دیا ہے کہ انہیں انتشار، فتنہ، گالم گلوچ اور تصادم کی سیاست سے بیزاری ہے۔

’خواتین کی بے توقیری اور ذاتی دشمنی میں بدلا گیا‘

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں جس طرح سیاست کو گالی، بدتہذیبی، مخالفین کی تذلیل، گھروں کو سیاست میں گھسیٹنے، خواتین کی بے توقیری اور ذاتی دشمنی میں بدلا گیا، اس نے معاشرے پر گہرا منفی اثر چھوڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو سیاست دان آج شکایتیں کر رہے ہیں، وہی اس خراب روایت کے بانی تھے، اور اب وہی روش انہیں اپنے نتائج دکھا رہی ہے۔ قیادت کو اندازہ ہونا چاہیے کہ سیاست تقریروں سے نہیں بلکہ کارکردگی سے آگے بڑھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں اس وقت فلاحی منصوبوں پر بڑی رفتار سے کام جاری ہے۔ صوبے میں 1 لاکھ 20 ہزار نئے گھر غریبوں کے لیے تعمیر ہو رہے ہیں، لوگ مفت علاج سے استفادہ کر رہے ہیں، ہسپتالوں کی تعمیر اور توسیع جاری ہے، طلبہ کو لیپ ٹاپ اور اسکالرشپس دی جا رہی ہیں، ستھرا پنجاب پروگرام موثر انداز میں کام کر رہا ہے اور گرین بسیں ہر ضلع اور شہر تک پہنچ رہی ہیں۔ ان کے مطابق آئندہ تین برسوں میں یہ ترقیاتی سفر مزید تیز رفتار ہو جائے گا۔

’امن و امان کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے‘

وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں امن و امان کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے اور عوام پہلے سے زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں مذہبی ہم آہنگی برقرار ہے اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے پاکستانی بھی بھائی چارے کے ساتھ اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابات میں عوام نے ثابت کیا ہے کہ ملک کی ترقی اس بات میں ہے کہ حکمران عوامی خدمت کے ایجنڈے پر کام کریں، نہ کہ نفرت، الزام اور جھوٹ کو سیاست کا محور بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو جماعتیں چار سال تک ہر ادارے کو دبا کر، مخالفین کو گالیاں دے کر اور عوام کو گمراہ کر کے سیاست چلاتی رہیں، آج وہی آوازیں اپنے خلاف سن کر پریشان ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ تاریخ نے دکھا دیا ہے کہ سیاست میں نفرت کی بنیاد رکھنے والوں کو خود ہی اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن نے ہر دور میں ترقیاتی کام کیے اور ملک کے استحکام میں کردار ادا کیا، اور آج بھی عوام کی ترقی اور خوشحالی اسی راستے سے وابستہ ہے کہ قیادت خدمت کو ترجیح دے اور ملک کو آگے لے جانے کے لیے عملی اقدامات کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد استحکام، انڈیکس میں 837 پوائنٹس کا اضافہ

پاکستان کے فضائی حملوں میں کابل کے اسپتال کو نشانہ بنائے جانے کے دعوؤں کی پاکستان کی جانب سے تردید

پنجاب میں ایگری انٹرن پروگرام کے مثبت اثرات، گندم کی پیداوار میں اضافہ

انجری کے بعد واپسی مشکل، نیمار ایک بار پھر برازیل کے اسکواڈ سے باہر

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے زراعت، معاشی سلامتی اور عوامی بہبود پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا