چینی معماروں کا کمال، 11 منزلہ عمارت گھنٹوں میں تیار

بدھ 26 نومبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین معماروں نے ایک بار پھر برق رفتاری سے تعمیرات کا منفرد کارنامہ انجام دیتے ہوئے صرف 29 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں 11 منزلہ عمارت کھڑی کردی۔

چانگشا شہر میں بروڈ گروپ کی جانب سے مکمل کیا جانے والا یہ منصوبہ انتہائی دقیق ماڈیولر تعمیراتی نظام کا حصہ ہے جس کے تحت فیکٹری میں تیار شدہ اسٹیل یونٹس موقع پر پہنچتے ہی جوڑ دیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے تاریخی عمارت کو بخوبی دوسری جگہ منتقل کردیا، ماہرین کا اب تک کا سب سے بڑا کارنامہ

عمارت کو پری فیبریکیٹڈ اسٹیل ماڈیولز کے ذریعے کھڑا کیا گیا جن میں پانی، بجلی اور دیگر ضروری تنصیبات پہلے سے موجود تھیں۔ یہ یونٹس فیکٹری سے مکمل حالت میں تیار ہوکر تعمیراتی مقام تک لائے گئے جہاں 3 کرینوں اور تربیت یافتہ عملے نے انہیں جوڑ کر عمارت کی شکل دی۔

کمپنی کے مطابق عمارت کو مکمل کرنے میں مجموعی طور پر 28 گھنٹے 45 منٹ لگے جو اپنی نوعیت کا دنیا کے تیز ترین تعمیراتی ریکارڈز میں شمار ہوتا ہے۔

اس نظام کی بنیاد اسٹین لیس اسٹیل کی مضبوط پلیٹیں ہیں جنہیں کمپنی لِونگ بلڈنگ سسٹم کا حصہ قرار دیتی ہے۔ ہر ماڈیول تقریباً 40 فٹ لمبا، 8 فٹ چوڑا اور 10 فٹ اونچا ہے.

یہ بھی پڑھیں: بیجنگ کے 10 ایسے مقامات جو آپ کو ضرور دیکھنے چاہییں

جسے شپنگ کنٹینرز کے معیار کے مطابق بنایا گیا تاکہ ترسیل میں آسانی رہے۔ عمارت کی تکمیل کے بعد یہ یونٹس ستونوں کے بغیر کشادہ ہال جیسی جگہ فراہم کرتے ہیں اور بجلی و پانی کی کنکشن کے ساتھ فوری طور پر قابل استعمال ہو جاتے ہیں۔

بروڈ گروپ کے مطابق اسٹیل ماڈیولز نہ صرف روایتی کنکریٹ تعمیرات کے مقابلے میں ہلکے ہیں بلکہ زیادہ مضبوط اور زلزلوں، طوفانوں سمیت شدید موسمی حالات کے خلاف بہتر مزاحمت رکھتے ہیں۔ اس طریقہ کار سے تعمیراتی لاگت کم ہوتی ہے اور توانائی کے استعمال میں بھی نمایاں کمی آتی ہے جس سے رہائشی اخراجات میں کمی کا فائدہ صارفین کو ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 7 عجائبات عالم کو کم وقت میں دیکھنے کا عالمی ریکارڈ قائم

تعمیراتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موقع پر عمارت کھڑی ہونے کی رفتار حیران کن ہے لیکن اس کامیابی کا بڑا حصہ فیکٹری میں پہلے سے کیے گئے کام، ماڈیولز کی تیاری، معیار کی جانچ، لاجسٹک منصوبہ بندی اور بروقت ترسیل پر منحصر ہے۔ موقع پر ہونے والا کام بنیادی طور پر پہلے سے تیار شدہ حصوں کی تیز رفتار جوڑائی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ تجربہ طویل مدت میں رہائشی معیار، حفاظت اور پائیداری کے تمام تقاضوں پر پورا اترا تو چین سمیت دنیا کے بڑے شہروں میں کثیر المنزلہ رہائشی منصوبوں کی تعمیر کا طریقہ بدل سکتا ہے۔

تیزی سے بڑھتے شہری علاقوں میں یہ ماڈیولر نظام کم لاگت، کم وقت اور زیادہ مضبوطی کے ساتھ رہائش کی فراہمی کا نیا حل ثابت ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم