بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے اشتعال انگیز بیان کے خلاف سندھ کے مختلف شہروں میں طلبہ، اساتذہ اور شہریوں کی جانب سے احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جن میں عوام نے سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔
دادو میں ریلی
دادو میں 27 نومبر کو گورنمنٹ پرم آنند لال ہائی اسکول کے طلبہ اور اساتذہ نے پرنسپل کشور لال اور پیسو مل کی قیادت میں اسکول سے مین ڈی ایچ کیو اسپتال تک ریلی نکالی۔
یہ بھی پڑھیں:’سرحدیں بدل سکتی ہیں، سندھ کل بھارت کا حصہ بھی بن سکتا ہے‘، راجناتھ سنگھ کا متنازع بیان
شرکا نے بیان کو ’غیر ذمہ دارانہ اور نفرت انگیز‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ نہ کبھی بھارت کا حصہ رہا ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا۔ مقررین نے کہا کہ سندھ پاکستان کا دل ہے اور اس کے خلاف کوئی بھی متنازعہ بیان ناقابلِ قبول ہے۔
ریلی کے شرکاء مسلسل نعرے لگاتے رہے ’سندھ زندہ باد‘، ’پاکستان پائندہ باد‘ اور ’راج ناتھ سنگھ مردہ باد‘۔
جامشورو میں ریلی
جامشورو میں بھی اسی نوعیت کی احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ کشور لال، جیسو مل اور بلال شورو کی قیادت میں شہریوں نے ڈسٹرکٹ کونسل روڈ سے مین جامشورو روڈ تک مارچ کیا اور بھارتی وزیرِ دفاع کے بیان کی سخت مذمت کی۔

شرکا نے کہا کہ راج ناتھ سنگھ کے اشتعال انگیز دعوے خطے میں نفرت اور کشیدگی کو بڑھانے کی سازش ہیں جنہیں سندھ کے عوام کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ پر بھارتی وزیر دفاع کے بیان پر وزیراعلیٰ سندھ کا سخت ردعمل
دونوں شہروں میں عوام نے مطالبہ کیا کہ بھارت ایسے اشتعال انگیز بیانات کا سلسلہ فوری طور پر بند کرے، کیونکہ یہ خطے کے امن کے لیے خطرہ اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔











