سکھر رینج کے تینوں اضلاع سکھر، خیرپور اور گھوٹکی میں خطرناک ڈاکوؤں و گینگسٹرز اور دیگر کارروائیوں کی تفصیل جاری کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ واحد صوبہ ہے جہاں بچوں کو ’چائلڈ ابیوز‘ سے بچانے کی تربیت دی جاتی ہے، مراد علی شاہ
ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی سربراہی میں سکھر رینج کے تینوں اضلاع سکھر، خیرپور اور گھوٹکی میں ایک سال کے دوران جرائم کے خاتمے، امن و امان کی بہتری، عوامی فلاح، اندرونی احتساب، پولیس ویلفیئر اور جدید آئی ٹی سسٹمز کے تحت نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔
سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق کچے کے علاقے میں بڑے جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کی گئیں۔
پولیس مقابلے اور آپریشنز
رپورٹ کے مطابق 547 پولیس مقابلے ہوئے جن میں29 خطرناک جرائم پیشہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ 160 زخمی،836 ملزمان گرفتار اور248 گینگز کا خاتمہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں24 انتہائی مطلوب ملزمان نے ہتھیار ڈال کر خود کو پولیس کے حوالے کیا۔
اشتہاری و مفرور ملزمان کی گرفتاری
قتل کے مقدمات میں414 اشتہاری،425 مفرور گرفتار کیے گئے جبکہ دیگر مقدمات میں 680 اشتہاری اور 2036 مفرور گرفتار کیے گئے۔
انعام یافتہ ڈاکوؤں کا خاتمہ
50 لاکھ روپے انعام یافتہ بدنام ڈاکو شاہنواز عرف شاہو اپنے 8 ساتھیوں سمیت مارا گیا اور 20 لاکھ روپے انعام یافتہ ڈاکو سلطان شاہ اپنے بیٹے کے ساتھ ہلاک کر دیا گیا۔
منشیات فروشوں اور منشیات کی برآمدگی
اے پلس کیٹگری میں 26 منشیات فروش گرفتار ہوئے۔ مجموعی طور پر 1329 مقدمات درج، 1529 ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
بھارتی مقدار میں منشیات برآمد
بھاری مقدار میں چرس، آئس، ہیروئن، شراب اور بھنگ سمیت بھاری مقدار میں گٹکا و مین پوری برآمد کی گئی۔
جوا، اسلحہ اور چوری شدہ املاک
جوئے کے 254 کیسز درج کیے گئے جن کے تحت 1113 ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔
چوری شدہ املاک برآمد
8 کروڑ 79 لاکھ روپے کی پراپرٹی بشمول683 موٹر سائیکلیں اور45 کاریں برآمد کر کے مالکان کے حوالے کی گئیں۔
اسلحہ برآمدگی
اسلحے کے حوالے سے 719 مقدمات درج کیے گئے جن کے تحت673 گرفتاریاں ہوئیں۔
جدید و بھاری اسلحہ سمیت ہزاروں راؤنڈز کی ریکوری کی گئی۔
اغوا کیسز اور ہنی ٹریپ سے بچاؤ
سکھر رینج میں 46 مغویوں کی باحفاظت بازیابی کی گئی۔
مجموعی طور پر1776 شہریوں کو ہنی ٹریپ اور کچے کے علاقے میں ورغلا کر اغوا سے بچایا گیا۔ (واضح رہے کہ کچے کے ڈاکو خواتین کے ذریعے یا مختلف ایپلی کیشنز کی مدد سے آواز بدل کر نسوانی آواز میں لوگوں کو محبت کے جال میں پھنسا کر کچے کے علاقے میں بلوالیتے ہیں اور اغوا کرکے تاوان وصول کرتے ہیں)۔
رپورٹ کے مطابق رینج میں اس وقت کوئی بھی مغوی موجود نہیں۔
گمشدہ بچوں کی بازیابی
گمشدہ بچوں کو تلاش کیا گیا اور مجموعی طور پر34 بچوں کو ان کے والدین سے ملا دیا گیا۔
ٹریفک ایکشن
14853 چالان کیے گئے اور17 لاکھ 60 ہزار روپے جرمانہ قومی خزانے میں جمع کرائے گئے۔
اندرونی احتساب
کرپشن و جرائم کی سہولت کاری کے مرتکب 86 افسران و اہلکار برخاست کیے گئے۔
مزید پڑھیں: سندھ: کچے کے ڈاکوؤں کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش، نئی پالیسی ہے کیا؟
اس حوالے سے ان کی تنزلی یا دیگر سزائیں بھی عمل میں لائی گئیں۔
مائنر پنشمنٹ
156 افسران و اہلکاروں کو تنبیہ، جرمانے یا انکریمنٹ روکنے کی سزائیں دی گئیں جبکہ105 افسران کے شوکاز فائل کیے گئے۔
جزا کا عمل
218 اہلکاروں کو تعریفی اسناد و کیش ایوارڈ جبکہ 69 کو آئی جی سندھ کی جانب سے اسناد ملیں۔
شکایتی سیل کی کارکردگی
کمپلینٹ سیل کو کل7790 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 6644 حل کردی گئیں جبکہ باقی شکایات پر کارروائی جاری ہے۔
شہدا کے ورثا اور پولیس ملازمین کی ویلفیئر
شہدا کے ورثا کو 14 نوکریاں فراہم کی گئیں۔
مجموعی ویلفیئر فنڈنگ کے تحت39 کروڑ 5 لاکھ روپے فوری ریلیف و دیگر گرانٹس دی گئیں۔37 کروڑ 58 لاکھ روپے شہدا و انجری کمپنسیشن کے تحت دیے گئے۔
مزید پڑھیے: ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی کو عہدوں سے کیوں ہٹایا گیا؟
ہیلتھ انشورنس سے 4640 افراد نے مفت علاج کی سہولت حاصل کی۔
انفراسٹرکچر و آئی ٹی اصلاحات
3 ماڈل پولیس اسٹیشن فعال کردیے گئے جبکہ مزید 4 زیر تعمیر ہیں۔
ہائی ویز پر 7 ہالٹنگ پوائنٹس مکمل کرلیے گئے۔
جدید سسٹمز
پی ایس آر ایم ایس کے تحت86.4% ڈیٹا انٹری مکمل کی گئی۔ ایچ ای ایم ایس کے ذریعے 21 خطرناک ملزمان گرفتار کیے گئے، تلاش ایپ کے ذریعے 156 ملزمان پکڑے گئے۔
یہ بھی پڑھیے: شکار پور: ڈاکوؤں کی فائرنگ سے سابق صوبائی وزیر غالب ڈومکی زخمی، 2 گارڈز ہلاک
حاضری سسٹم میں 11430 اہلکاروں کی پابندی یقینی بنائی گئی۔
ترقی، بھرتیاں اور انسپیکشن
276 افسران و اہلکاروں کی ترقی عمل میں لائی گئی۔

1401 بھرتیاں مختلف کوٹہ جات کے تحت کی گئیں جبکہ مزید 1421 کیسز پراسیس میں ہیں۔
300 سے زائد پولیس دفاتر و تھانوں کی انسپیکشن مکمل کی گئی۔
ڈی آئی جی سکھر کا پیغام
ڈی آئی جی کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ نے کہا ہے کہ ایمانداری اور حوصلے کے ساتھ عوام کی خدمت ہمارا مشن ہے۔ قانون شکن عناصر کے خلاف کارروائیاں بلا تفریق جاری رہیں گی۔
مزید پڑھیں: شکار پور: کچے کے ڈاکوؤں نے فائرنگ کرکے ایس ایچ او کو شہید کردیا
انہوں نے کہا کہ سکھر رینج پولیس کی محنت ہی ہمارا فخر ہے۔














