جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مردان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حکومت پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے کہا جاتا تھا کہ عمران خان مغربی ایجنڈے پر کام کر رہے تھے، لیکن اب موجودہ حکومت مغرب کے اصل ایجنڈے پر عملدرآمد کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماضی کی تلخ یادیں بھول چکے، پاکستان بنگلہ دیش کو بھائی کی طرح دیکھتا ہے، مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان نے ملکی معیشت کے بحران کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان وہ ملک نہیں رہا جس کی عوام نے امیدیں لگائی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو ان کے حقوق دے، آج آئین کو کھلونا بنا دیا گیا ہے اور عوامی خواہشات کے بجائے بڑے لوگوں کی مرضی چل رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 27 ویں ترمیم کے لیے ارکان خریدے گئے اور جعلی اکثریت سے یہ ترمیم منظور کی گئی۔

سربراہ جے یو آئی نے خارجہ پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ افغان پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور 78 سال میں ہم افغانستان کو اپنا دوست نہیں بنا سکے۔
مولانا فضل الرحمان نے عالمی امور پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھوں فلسطینیوں کا خون بہ رہا ہے اور شہباز شریف، ٹرمپ کو امن کا نوبل دلوانے کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے بارے میں اپنے رویوں پر نظرثانی کرنا ہوگی اور مسلح گروہوں کو جنگ ختم کر دینی چاہیے کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔












