کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب سپر اسٹور کے سامنے بچے کے گٹر میں گرنے کے واقعے کے حوالے سے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے تحقیقاتی رپورٹ سیکریٹری محکمہ بلدیات کو بھیج دی ہے۔
سینیئر ڈائریکٹر میونسپل سروسز عمران راجپوت کے مطابق میئر کراچی کے حکم پر میونسپل سروسز نے بچے کی تلاش کا آپریشن شروع کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’میرے بچے کو ڈھونڈنے میں مدد کریں‘، کراچی میں گٹر میں گرنے والے بچے کی ماں کی اداروں سے اپیل
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گلشن ٹاؤن کے لنک نالے سے بچے کی لاش برآمد ہوئی، اور معائنے سے ثابت ہوا کہ حادثے کی وجہ بی آر ٹی تعمیرات تھیں۔
Video of the unfortunate incident, little Ibrahim Falls into an Open Manhole at NIPA Chowrangi pic.twitter.com/tqrQ0jzaau
— Mohsin (@imsmohsin) December 3, 2025
بی آر ٹی کی کھدائی نے نالوں پر مشتمل پورے نکاسی نظام کو شدید نقصان پہنچایا۔
رپورٹ کے مطابق عارضی 2 فٹ کے کور لگا کر گٹروں کو بند کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
ریڈ لائن منصوبے کی جانب سے ایک جگہ مین ہول کھلا رہنے کی وجہ سے سانحہ ہوا۔
مزید پڑھیں: گٹر میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی لاش سرکاری عملے کے بجائے کچرا چننے والے نے نکالی
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ طریقہ کار اور غیرمعیاری ڈھکن کبھی کے ایم سی نے استعمال نہیں کیے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بی آر ٹی نے کام شروع کرنے سے پہلے کے ایم سی کو آگاہ نہیں کیا۔
کھدائی بی آر ٹی نے کی اور بعد میں صورتحال کو نظرانداز کیا۔
مزید پڑھیں:کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گرنے کے بعد لاپتہ، ’ایف آئی آر میئر کراچی پر کاٹی جائے‘
سپراسٹور انتظامیہ اور بی آر ٹی کی مشترکہ لاپرواہی کے باعث بچہ گٹر میں گر کر جان لیوا حادثے کا شکار ہوا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعد ازاں افسران کی نگرانی میں لاش کی تلاش کے لیے کھودے گئے شدہ تمام حصے بھر دیے گئے ہیں۔














