کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں نیپا چورنگی کے قریب کھلے مین ہول میں گرنے والا 3 سالہ بچہ ابراہیم جاں بحق ہوگیا۔ بچے کی لاش 14 گھنٹے کی تلاش کے بعد ایک کلو میٹر دور نالے سے برآمد کی گئی۔
واقعے کے بعد ایک لڑکے نے دعویٰ کیا کہ بچے کی لاش سرکاری اداروں کے عملے نے نہیں بلکہ اس نے نکالی ہے۔ لڑکے کا کہنا ہے کہ اس نے بچے کی لاش اٹھا کر انکل کو دی تھی ۔ پولیس والے نے مجھے کہا کہ تم کون ہو تو میں نے کہا بچے کو میں نے ڈھونڈا ہے تو انہوں نے مجھے تھپڑ مار کر گاڑی سے اتار دیا۔
اس واقعے پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، جہاں شہریوں نے حکومتی اداروں کی سست روی پر سوال اٹھائے اور کچرا چننے والے لڑکے کو بہادری پر سراہا۔ فیض اللہ سواتی لکھتے ہیں کہ ننھے ابراہیم کی لاش کھربوں بجٹ رکھنے والی بلاول کی حکومت نے نہیں نکالی بلکہ کچرا چننے والے لڑکے نے بچے کی لاش نکال کر اپنے رکشے پہ رکھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان محکموں کے اہلکاروں کو برطرف کچرا چننے والے لڑکے کو ہیرو قرار دیا جائے انعام دیا جائے۔
ننھے ابراھیم کی لاش کھربوں بجٹ رکھنے والی بلاول کی حکومت نے نہیں نکالی بلکہ کچرہ چننے والے لڑکے نے بچے کی لاش نکال کر اپنے رکشے پہ رکھی اور پولیس پہنچی تو لاش کی تفتیش کرکے اسے تھپڑ مارے ، ناسور محکمے کے اہلکاروں کو برطرف کچرہ چننے والے لڑکے کو ہیرو قرار دیا جائے انعام دیا جائے pic.twitter.com/Rmd0fn1zGe
— Faizullah Khan فیض (@FaizullahSwati) December 1, 2025
ملک اسامہ لکھتے ہیں کہ ننھے ابراہیم کی لاش تلاش کر کے دینے والا وہ بچہ جو روزی روٹی کمانے کی غرض سے کچرا اکھٹا کرتا ہے، ایک وہ ہیں جن کے پورے پورے ادارے اربوں کا فنڈ کھا رہے ہیں مگر وہ تلاش نہ کر سکے۔
ننھے ابراہیم کی لاش تلاش کر کے دینے والا وہ بچہ جو روزی روٹی کمانے کی غرض سے کچرا اکھٹا کرتا ہے، ایک وہ ہیں جن کے پورے پورے ادارے اربوں کا فنڈ کھا رہے ہیں مگر وہ تلاش نہ کر سکے۔ pic.twitter.com/WVjZPx5w9A
— Malik Osama Sarwar (@Malik__osama) December 1, 2025
لاپتا بچے کی والدہ نے دعویٰ کیا کہ بچے کی تلاش ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت کی، مشینوں میں 15 ہزار روپے کا ڈیزل تک ہم نے خود ڈالا، انتظامیہ نے اس جگہ بجلی تک بند کردی۔ بچے کے والد نے بھی کہا کہ مشین ہم خود لے کر آئے انتظامیہ نے کوئی مدد نہیں کی۔













