گٹر میں ڈوبنے والے 3 سالہ ابراہم کے والد نے کراچی بھر میں ڈھکن لگانے کا اعلان کردیا

بدھ 3 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ روز کراچی میں گٹر کے کھلے مین ہول میں گرنے سے 3 سالہ ابراہیم جاں بحق ہوگیا تھا، جس کے بعد شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اہلخانہ کے مطابق بچہ گرنے کے بعد تقریباً 15 گھنٹے تک پانی میں پھنسا رہا لیکن اسے کوئی نکالنے نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: کمسن ابراہیم کی لاش تلاش کرنے والے تنویر کو پولیس کا اعزاز، ریسکیو دعوؤں پر سوالات اٹھ گئے

انڈیپنڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے 3سالہ ابراہیم کے والد کا کہنا ہے کہ وہ سب کچھ کھو چکے ہیں اور ان کا دکھ سننے والا کوئی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اگر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنی ہوتی تو کرچکی ہوتی، لیکن عملی طور پر ان کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں ہوئی۔

 انہوں نے کہا کہا کہ اگر حکومت گٹرز کے ڈھکن نہیں لگاسکتی تو وہ خود شہر میں کھلے مین ہولز کو ڈھانپنے کا کام شروع کریں گے تاکہ کوئی اور بچہ اس انجام کا شکار نہ ہو۔

شہریوں نے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مختلف ماہرین اور سماجی کارکنوں نے بھی اس سانحے پر افسوس اور انتظامیہ پر تنقید کی ہے۔ سوشل میڈیا پر کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کے خلاف مہم جاری ہے اور ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں گٹر میں گرنے والے 3 سالہ بچے کی لاش 14 گھنٹے بعد مل گئی

دوسری جانب گلشن ٹاؤن کے میونسپل کمشنر نے میونسپل کونسل کو خط لکھ کر وضاحت کی ہے کہ یہ علاقہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں بلکہ کے ایم سی اور واٹر بورڈ کے ماتحت ہے۔

متاثرہ گھرانے کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد کسی سینیئر افسر نے آ کر ان سے اظہار ہمدردی تک نہیں کیا اور نہ ہی ریسکیو آپریشن فوری طور پر شروع کیا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کو پہنچنے میں تاخیر ہوئی اور آپریشن 15 گھنٹے تک جاری رہا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟