پشاور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی جانب سے پی ٹی آئی کے ممبران اسمبلی کو آزاد قرار دینے کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست کو خارج کردیا۔
مزید پڑھیں: احتجاجی ریلیوں میں سرکاری وسائل کا استعمال ممنوع، پشاور ہائیکورٹ نے کے پی حکومت کو روک دیا
درخواست کی سماعت جسٹس محمد نعیم انور اور جسٹس کامران حیات میاں خیل پر مشتمل بینچ نے کی۔
درخواست گزار نے الیکشن رولز 94 کو چیلنج کیا تھا اور وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے ممبران کو آزاد قرار دیا ہے، لہٰذا اب الیکشن کمیشن یہ واضح کرے کہ آیا پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے یا نہیں۔
الیکشن کمیشن کے وکیل نے بتایا کہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے پہلے پشاور ہائیکورٹ کے 5 رکنی بینچ اور بعد میں سپریم کورٹ کے فیصلے آئے۔
وکیل مسلم لیگ ن نے مؤقف اختیار کیا کہ نظرثانی درخواستوں پر آئینی بینچ نے فیصلہ دے دیا ہے اور اس معاملے کو ختم ہو چکا ہے۔
عدالت نے تمام دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو اب سنایا گیا ہے اور اس کے مطابق سابق وزیراعلیٰ کی درخواست خارج کر دی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: شہباز شریف نے پی ٹی آئی کے آزاد ارکان کو حکومت بنانے کی دعوت دے دی
واضح رہے کہ عام انتخابات 2024 سے قبل الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لیتے ہوئے امیدواروں کو آزاد قرار دے دیا تھا۔














