کراچی سے چوری شدہ گاڑیوں کی کوئٹہ میں کرپٹو کرنسی کے ذریعے خرید و فروخت کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب

جمعرات 4 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان پولیس نے گاڑیوں کی چوری اور اسمگلنگ میں ملوث ایک جدید اور منظم نیٹ ورک کو بے نقاب کردیا ہے، ایک گینگ کراچی میں گاڑیاں چوری کرنے کے بعد دوسرے گینگ کو کوئٹہ میں فروخت کر دیتا تھا پولیس حکام کے مطابق ان گاڑیوں کی خرید و فروخت کے لیے کرپٹو کرنسی کا استعمال ہو رہا تھا۔

پولیس کے مطابق اس گینگ نے لین دین کے روایتی طریقے چھوڑ کر ڈیجیٹل کرنسی کو اپنایا جس نے گینگ کو ٹریس ہونا مشکل بنا دیا تھا۔

مزید پڑھیں: کرپٹو کرنسی کو دیگر کرنسیز میں کیسے منتقل کیا جا سکتا ہے؟

ایس ایس پی سیریس کرائم انویسٹیگیشن ونگ عمران قریشی کے مطابق کراچی میں سرگرم ایک گینگ نئی اور مہنگی گاڑیوں کا تعاقب کرنے کے بعد ٹریکر بند کرنے کے انہیں چوری کرتا اور یہ چوری شدہ اور چھینی گئی گاڑیاں حب، وندر اور دشت کے خفیہ راستوں سے انہیں کوئٹہ منتقل کی جاتی تھی جہاں ایک دوسرا نیٹ ورک ان گاڑیوں کو نان کسٹم پیڈ یا بینک ڈیفالٹر اور نان کسٹم پیڈ کے نام پر سستے داموں فروخت کرتا تھا۔

عمران قریشی نے بتایا کہ نیٹ ورک کا انکشاف اس وقت ہوا جب چوری شدہ 2 گاڑیوں کی تحقیقات کی جا رہی تھی پولیس نے تحقیقات کے دوران کوئٹہ سے لیکر حب چوکی تک مختلف مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے چیک کیے، لوکیشن ٹریس اور تکنیکی شواہد کی مدد سے 3 ہفتے تک نگرانی کی، جس کے نتیجے میں پورا نیٹ ورک سامنے آگیا۔

مزید پڑھیں: بھارت کرپٹو کرنسی ریگولیشن کے لیے قانون سازی سے انکاری کیوں؟

2 مختلف گینگز کے درجنوں افراد سینکڑوں گاڑیاں کوئٹہ میں فروخت کرچکے تھے، جبکہ مزید 20 گاڑیاں مارکیٹ میں بیچنے کی تیاری تھی کہ کارروائی کے دوران 20 گاڑیاں برآمد کرلی گئیں۔ برآمد شدہ گاڑیوں کی مالیت 8 سے 10 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔

عمران قریشی نے بتایا کہ اس نیٹ ورک کے سہولت کار مختلف اضلاع میں پھیلے ہوئے ہیں، اور جن افراد نے یہ گاڑیاں خریدیں انہیں بھی ٹریس کیا جارہا ہے۔ پولیس نے مزید گرفتاریوں کے لیے سندھ پولیس سے مدد بھی طلب کرلی ہے، جبکہ برآمد شدہ گاڑیاں جلد کراچی میں اصل مالکان کے حوالے کی جائیں گی۔

گاڑیوں کی چوری میں کرپٹو کرنسی کا استعمال جرائم کے طریقے کار میں ایک نئی جدت ہے، جس نے نگرانی اور ٹریکنگ کے طریقوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ البتہ حکام کا دعویٰ ہے کہ تکنیکی شواہد کی بنیاد پر پورا نیٹ ورک جلد مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں