بابری مسجد کی شہادت کو 33 سال مکمل، زخم آج بھی تازہ

ہفتہ 6 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارتی شہر ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کا 33 برس قبل انہدام مسلم امہ کے دلوں پر آج بھی تازہ زخموں کی طرح باقی ہے۔

6 دسمبر 1992 کو بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس، وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل سے تعلق رکھنے والے ہزاروں ہندوتوا شدت پسندوں نے بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر ایودھیا میں قائم 16ویں صدی کی اس تاریخی مسجد کو مسمار کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ہندو جھنڈا بابری مسجد کے ملبے پر، تشدد، سیاست اور تاریخ کا مسخ شدہ بیانیہ

یہ دلخراش واقعہ آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کے اجتماعی شعور کو جھنجھوڑتا ہے۔

غم و غصے میں اضافہ اس وقت ہوا جب بھارت کی اعلیٰ عدلیہ نے نومبر 2019 میں مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کی اجازت دے دی اور اپنے فیصلے میں نہ صرف ہندوتوا بیانیے کو تقویت دی بلکہ ایل کے اڈوانی سمیت بی جے پی کے سخت گیر رہنماؤں کو مقدمے سے بری کر دیا۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد کے انہدام کے بعد اب سنبھل مسجد ہندو انتہا پسندوں کے نشانے پر

اس سانحے کے دوران احتجاج کرنے والے یا مزاحمت کرنے والے سینکڑوں مسلمان ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

بابری مسجد کی شہادت کی 33ویں برسی کے موقع پر پاکستان نے کہا ہے کہ یہ مسجد قوم کی اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے اور 6 دسمبر 1992 کے واقعات آج بھی دلوں میں گہرے دکھ اور تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔

وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ مذہبی ورثے کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور مسلم مذہبی مقامات پر حملوں کے حوالے سے شفاف احتساب ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی عبادت گاہ کی بے حرمتی مذہبی مساوات کے اصولوں کے منافی ہے۔

ترجمان کے مطابق، بابری مسجد واقعے کے بعد بھارتی مسلمان مسلسل عدم تحفظ اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں، پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر کاربند رہے گا۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد سے مشابہ دال ماش سے بنی پاکستان کی قدیم لودھی مسجد

پاکستان نے بھارت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ تمام شہریوں کو برابر کے حقوق اور مذہبی آزادی فراہم کرے۔ ’ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مسلم مذہبی ورثے کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کرے۔‘

ادھر سرینگر میں آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں اور تنظیموں نے اپنے بیانات میں کہا کہ بابری مسجد کا انہدام 3 دہائیاں گزرنے کے باوجود مسلمانوں کے دلوں پر بوجھ بنا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت فسطائی نظریے کے تحت بھارت کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ہاتھ اب بھی گجرات کے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔

حریت رہنماؤں کے مطابق، بی جے پی کے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی زندگی مزید اجیرن ہو چکی ہے، ان کے قتل عام کا سلسلہ جاری ہے اور مساجد کو منظم انداز میں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ایودھیا میں عظیم الشان مسجد کی تعمیر مئی میں شروع ہوگی، مسلمانوں کا اعلان

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی ہندوتوا ایجنڈے کو جارحانہ طور پر نافذ کیا جا رہا ہے اور آبادیاتی انجینئرنگ کے ذریعے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوششیں عروج پر ہیں۔

حریت کانفرنس نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ بھارت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی جان، مال، عزت اور عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم

چین کی اہم دریا سے سمندر تک نہر کی تعمیر مکمل، ستمبر میں کھولنے کی تیاری

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں