ایپل اور گوگل نے اس ہفتے دنیا بھر میں صارفین کو سائبر حملوں کے ممکنہ خدشات سے آگاہ کرنے کے لیے ایک نئی کھیپ کے طور پر ’سائبر تھریٹ نوٹیفکیشنز‘ جاری کیے ہیں۔
دونوں کمپنیاں عرصے سے ایسے صارفین کو باقاعدگی سے خبردار کرتی رہی ہیں جن کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ ریاستی پشت پناہی رکھنے والے ہیکرز کا نشانہ بنے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایپل اور گوگل میں 1 ارب ڈالر کا معاہدہ، کیا ’سری‘ گوگل کے جیمنی اے آئی سے چلے گا؟
ایپل کے مطابق یہ انتباہی پیغامات 2 دسمبر کو جاری کیے گئے، تاہم کمپنی نے ہیکنگ کی نوعیت، متاثرہ صارفین کی تعداد یا اس ممکنہ نگرانی کے پیچھے موجود عناصر کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کیں۔
Apple’s cyber threat warning issued to users in over 80 countries: Here’s all you need to know https://t.co/eQ72qf5Cfl
— Financial Express (@FinancialXpress) December 6, 2025
ایپل کا کہنا ہے کہ اب تک وہ دنیا کے 150 سے زائد ممالک میں صارفین کو ایسے نوٹس بھیج چکا ہے۔
یہ بیان گوگل کے 3 دسمبر کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کمپنی نے بتایا کہ وہ ان تمام صارفین کو خبردار کر رہی ہے جو انٹیلیگزا نامی اسپائی ویئر کے ذریعے نشانہ بنائے گئے تھے۔
گوگل کے مطابق یہ حملے متعدد ممالک میں سیکڑوں اکاؤنٹس‘‘ پر مشتمل تھے، جن میں پاکستان، قازقستان، انگولا، مصر، ازبکستان، سعودی عرب اور تاجکستان جیسے ممالک شامل ہیں۔
مزید پڑھیں: بھارت میں فون لوکیشن کی نگرانی، ایپل، گوگل اور سام سنگ نے سخت اعتراضات اٹھا دیے
گوگل نے کہا کہ امریکی پابندیوں کے باوجود سائبر انٹیلیجنس کمپنی انٹیلیگزا پابندیوں سے بچتے ہوئے پھل پھول رہی ہے۔
انٹیلیگزا سے وابستہ شخصیات نے فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔
مزید پڑھیں:گوگل اور ایپل نے اسرائیل اور غزہ میں لائیو ٹریفک معلومات غیر فعال کردیں
ماضی میں جاری ہونے والے ایسے نوٹس کئی تحقیقات اور حکومتی چھان بین کا باعث بھی بنے ہیں، جن میں یورپی یونین کے وہ اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں جو پہلے اسپائی ویئر کا نشانہ بن چکے ہیں۔
کینیڈین ادارے سٹیزن لیب کے محقق جان اسکاٹ ریلٹن کے مطابق اس طرح کے تھریٹ نوٹیفکیشنز سائبر جاسوسوں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں اور زیادہ تر ایسے سلسلے کا آغاز ہوتے ہیں جو اسپائی ویئر کے غلط استعمال پر حقیقی جواب دہی کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔














