غزہ جنگ بندی پر مذاکرات نازک مرحلے میں داخل، قطر کا انتباہ

اتوار 7 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی کا کہنا ہے کہ غزہ کی جنگ میں امریکا کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کو مضبوط بنانے سے متعلق مذاکرات ایک ’انتہائی نازک مرحلے‘ میں داخل ہو چکے ہیں۔

دوحہ فورم کانفرنس میں ایک سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ثالث کار جنگ بندی کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سماجی ترقی و غربت کے خاتمے پر عالمی اتفاق، دوحہ سیاسی اعلامیہ منظور

واضح رہے کہ قطر اس جنگ میں اہم ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔

’ہم ایک نہایت اہم لمحے پر کھڑے ہیں، ابھی ہم وہاں نہیں پہنچے، جو کچھ ہوا ہے وہ محض ایک وقفہ ہے، اس سے مراد وہ نسبتاً کمی ہے جو تقریباً ایک ماہ قبل طے پانے والی غزہ جنگ بندی کے بعد تشدد میں آئی۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ اسے مکمل جنگ بندی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ جنگ بندی تب ہی ممکن ہے جب اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا ہو، غزہ میں استحکام واپس آئے اور لوگ آزادانہ اندر باہر آ جا سکیں، جو بقول ان کے اس وقت ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں: سماجی ترقی کا خواب غزہ جنگ کو نظرانداز کرکے پورا نہیں ہوسکتا، صدر مملکت کا دوحہ کانفرنس سے خطاب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کے اگلے مراحل کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جس کا مقصد فلسطینی علاقے میں 2 سال سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔

اس منصوبے کے مطابق غزہ میں ایک عبوری ٹیکنوکریٹ فلسطینی حکومت قائم ہوگی، جس کی نگرانی ایک بین الاقوامی ’امن بورڈ‘ کرے گا، اور اسے ایک بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کی معاونت حاصل ہوگی، اس فورس کی تشکیل اور اختیارات پر اتفاق رائے سب سے مشکل مرحلہ ثابت ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیں:’صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے میں پاکستان نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے‘

جمعرات کے روز ایک اسرائیلی وفد نے قاہرہ میں ثالثوں سے ملاقات کی، جس میں غزہ میں موجود آخری یرغمالی کی فوری واپسی پر بات چیت ہوئی، یہ ٹرمپ منصوبے کے اہم ابتدائی حصے کی تکمیل ہوگی۔

کمزور جنگ بندی کے آغاز سے اب تک حماس تمام 20 زندہ یرغمالیوں اور 27 لاشیں واپس کر چکی ہے، جبکہ اس کے بدلے تقریباً 2,000 فلسطینی قیدی اور زیرِ حراست افراد کو رہا کیا گیا ہے۔

اگرچہ 10 اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد تشدد میں کمی آئی ہے، لیکن اسرائیل نے غزہ میں حملے اور حماس کے مبینہ انفرااسٹرکچر کی تباہی جاری رکھی ہے، حماس اور اسرائیل ایک دوسرے پر امریکی حمایت یافتہ معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر

بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ