اسرائیلی افواج کی غزہ پر گولہ باری، امریکی ثالثی والے معاہدے کی خلاف ورزی جاری

پیر 8 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی افواج نے پیر کے روز غزہ کی مختلف علاقوں میں نئی گولہ باری، دھماکے اور فائرنگ کی جو امریکی ثالثی والے جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: غزہ امن منصوبے کا دوسرا مرحلہ، اسرائیلی وزیراعظم نے اہم اعلان کردیا

انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق مقامی عینی شاہدین اور غزہ کے میڈیا ذرائع نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مغربی رفاہ میں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے تباہ کیا اور شہر کے مشرق میں فائرنگ کی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فوج نے خان یونس کے مشرق میں توپ خانے اور ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے۔

یہ جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر کو نافذ ہوا تھا جس نے اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیل کی غزہ پر بے دریغ گولہ باری کو ختم کیا تھا، جس کے نتیجے میں 70,000 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 171,000 زخمی ہوئے۔

جنگ بندی کی خلاف ورزیاں

اسرائیلی افواج نے مغربی رفاہ میں رہائشی عمارتیں تباہ کیں، جو جنگ بندی کی شرائط کے تحت ان کے مکمل کنٹرول میں تھی، اور شہر کے مشرق میں فائرنگ کی۔

مزید پڑھیے: غزہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے مذاکرات نازک مرحلے میں داخل ہو چکے، قطری وزیراعظم

غزہ میڈیا آفس کے مطابق 10 اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیل کی سینکڑوں خلاف ورزیوں میں 373 فلسطینی ہلاک اور 970 زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل کا مؤقف

اسرائیل کے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی واپسی کے بعد قائم ہونے والی یلو لائن دراصل ایک نئی سرحد اور دفاعی لائن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج ان لائنوں پر موجود رہے گی۔

وزیرِاعظم بنجمن نیتن یاہو نے اتوار کو صحافیوں سے کہا کہ وہ امریکی ثالثی والے جنگ بندی منصوبے کے دوسرے مرحلے میں جلد ہی قدم بڑھانے کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگلا مرحلہ زیادہ مشکل ہوگا۔

بین الاقوامی اور سفارتی کوششیں

امریکا اسرائیل اور قطر کے اعلیٰ حکام نے نیو یارک میں ملاقات کی تاکہ نازک جنگ بندی معاہدے کو مستحکم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں شہدا کی تعداد 70 ہزار سے تجاوز کر گئی، جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی جارحیت جاری

ملاقات میں امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، موساد کے ڈائریکٹر ڈیوڈ بارنیا اور ایک سینئر قطری عہدیدار شامل تھے۔ یہ تینوں کے درمیان جنگ بندی کے بعد کی سب سے بلند سطح کی ملاقات تھی۔

غزہ میں انسانی امداد کی کمی

انسانی ہمدردی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ غزہ میں امدادی رسد ضرورت سے بہت کم ہے۔ اقوامِ متحدہ اور ریلیف حکام نے بچوں میں شدید غذائی قلت اور بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیوں میں محدود رسائی کی نشاندہی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: صیہونی افواج کے ہاتھوں ماری جانے والی 10 سالہ راشا کی وصیت پر من و عن عمل کیوں نہ ہوسکا؟

انروا کی تمارا الرِفیعی نے انتباہ کیا کہ غزہ پہنچنے والی امداد میں زیادہ تر تجارتی سامان ہے جبکہ بنیادی امدادی ایجنسیاں مناسب رسائی حاصل نہیں کر رہی ہیں۔

امریکی منصوبے کا دوسرا مرحلہ

دوسرے مرحلے میں غزہ کے انتظامی امور کے لیے بندوبست اور غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی قوانین کے مطابق ہے، بھارتی امپائر کا اعتراف، انڈین ٹیم میں خوف کا عالم

حکومت عالمی قوتوں کی پراکسی بننے کی کوشش نہ کرے، حافظ نعیم اور مولانا فضل الرحمان کی مشترکہ پریس کانفرنس

سوئنگ سلطان وسیم اکرم سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر مقرر

بنگلہ دیش کے اپوزیشن اتحاد کا اجلاس: صحت مند سیاست کے فروغ کی ضرورت پر زور

مخصوص ڈاکٹر کے معاملے پر پی ٹی آئی سپریم کورٹ جائے، حکومت مداخلت نہیں کرے گی، رانا ثنا اللہ

ویڈیو

عمران خان کی بینائی 85 فیصد ضائع، اس کا ذمے دار کون؟

پاکستان-انڈیا ٹی20: خواتین شائقین کی قومی ٹیم سےامیدیں

عمران خان سے سیاسی اختلافات ذاتی دشمنی نہیں، آنکھ کی تکلیف پر سیاست کرنا مجرمانہ کوشش ہے، طارق فضل چوہدری

کالم / تجزیہ

بنگلہ دیش الیکشن: کون، کیسے اور کیوں جیتا؟

محمود اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

تہذیب اور نظریہ: ایک بنیادی مغالطہ