بلوچستان خشک سالی کی لپیٹ میں، بارشوں میں شدید کمی کے بعد قابل کاشت رقبہ مزید سُکڑ گیا

بدھ 10 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیاں خطرناک رخ اختیار کر چکی ہیں، جہاں گزشتہ 3 ماہ کے دوران بارشیں معمول سے 41.9 فیصد کم رہی ہیں، جبکہ صوبے کی قابلِ کاشت زمین بھی سکڑ کر صرف 7.2 فیصد رہ گئی ہے۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو زراعت، پانی کے ذخائر اور لاکھوں شہریوں کے روزگار پر سنگین اثرات پڑ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بلوچستان کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کے لیے خوشخبری

رپورٹ کے مطابق ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2025 کے دوران صوبے میں صرف 8.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو معمول کی 14.8 ملی میٹر اوسط کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ اسی عرصے میں درجہ حرارت بھی اوسط سے تقریباً ایک ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا، جس نے خشک سالی کی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔

محکمۂ موسمیات کی خشک سالی ایڈوائزری کے مطابق مئی سے نومبر تک مغربی اور جنوب مغربی اضلاع میں مسلسل کم بارش اور خشک دنوں میں اضافہ مستقبل کے لیے خطرناک اشارہ ہے۔

آئندہ مہینوں کی پیشگوئیاں

محکمۂ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ دسمبر 2025 سے فروری 2026 تک بارشیں معمول سے کم رہنے کا امکان ہے، جبکہ گرمی کی شدت میں اضافہ متوقع ہے۔ اس صورتحال کے باعث کوئٹہ، چاغی، گوادر، کیچ، خاران، نوشکی، مستونگ، پشین، پنجگور، قلعہ عبداللہ اور واشک میں خشک سالی مزید سنگین ہوسکتی ہے۔

البتہ حکام نے موجودہ ماہ کے آخر میں ممکنہ بارشوں کے ایک کمزور سسٹم کی توقع ظاہر کی ہے جو عارضی اور معمولی ریلیف فراہم کر سکتا ہے۔

زرعی شعبہ شدید متاثر

اس صورتحال نے صوبے کے زرعی شعبے کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کی قابلِ کاشت زمین سکڑ کر 7.2 فیصد رہ گئی ہے، جو پانی کی کمی، کم بارشوں اور ناکافی آبی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔

زرعی ماہرین کے مطابق زیرِ زمین پانی کی سطح ہر سال 3 سے 4 فٹ تک نیچے جا رہی ہے، جس کے باعث باغات اور کھیت بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ہنہ سمیت کئی علاقوں میں اعلیٰ معیار کے سیب پیدا کرنے والے باغات پانی نہ ملنے کے باعث سوکھ چکے ہیں، اور کسانوں کی آمدنی میں نمایاں کمی آئی ہے۔

دیہی آبادی اور لائیو اسٹاک پر اثرات

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خشک سالی کے اثرات دیہی آبادی پر سب سے زیادہ پڑ رہے ہیں، جہاں تقریباً 75 فیصد لوگ براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ پانی کی کمی لائیو اسٹاک کے لیے بھی بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے، اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو زرعی اجناس کی شدید قلت اور وسیع پیمانے پر نقل مکانی کے خدشات موجود ہیں، جو صوبے کے معاشی و سماجی ڈھانچے کو مزید کمزور کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق بلوچستان موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ اثر برداشت کر رہا ہے اور آنے والے تین مہینے صوبے کے مستقبل، زراعت اور پانی کے ذخائر کے لیے نہایت اہم ہوں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

تونسہ میں ایچ آئی وی بحران، غیر تربیت یافتہ افراد سے انجیکشن لگوانے کا انکشاف

بحیرہ انڈمان میں کشتی ڈوبنے کا ہولناک واقعہ، 250 سے زائد افراد لاپتا ہونے کا خدشہ

امریکی سفارتکار زکری ہارکن رائیڈر کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات

خیبرپختونخوا: سرکاری ملازمین کی حکومتی اجازت کے بغیر غیرملکیوں سے شادی پر پابندی، نئے رولز جاری

ورلڈ کوانٹم ڈے: نئی ٹیکنالوجی کے چیلنج پر ادارے تیار، ڈیٹا کو لاحق خطرات میں اضافہ

ویڈیو

پاکستان، ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے کے لیے مزید کیا سکتا ہے؟

پاکستان میں بھارتی مواد چلانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، عوام کی رائے

پچھلے 13 سالوں میں پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا میں کرپشن کے سوا کچھ نہیں کیا، آفتاب شیرپاؤ

کالم / تجزیہ

ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟

ایک تھی آشا

سمندری ناکہ بندی اور فیصلہ کن گھڑی میں پاکستان کا ثابت قدم کردار