متحدہ عرب امارات میں رہائشی قوانین سخت، خلاف ورزی پر 10 سال قید اور کروڑوں کا جرمانہ

جمعرات 11 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ عرب امارات نے رہائش اور امیگریشن قوانین کے نفاذ میں سختی کر دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں پر پانچ ملین درہم (تقریباً 3.8 کروڑ روپے) تک جرمانے اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس میں غیر قانونی افراد کو پناہ دینا یا ملازمت فراہم کرنا شامل ہے۔

غیر ملکیوں کے داخلے اور قیام کے وفاقی قانون کے تحت وہ افراد جو غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والوں کو پناہ، ملازمت یا کسی قسم کی معاونت فراہم کریں گے انہیں کم از کم ایک لاکھ درہم (تقریباً 7.6 لاکھ روپے) جرمانہ اور قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ متعدد ملزمان یا منظم گروپوں کے معاملے میں جرمانے میں اضافہ ہو گا۔

یہ  بھی پڑھیں: غیرقانونی مقیم غیرملکی باشندوں میں سے کتنے پاکستان چھوڑ چکے ہیں؟

حکام نے کہا ہے کہ غیر قانونی رہائشیوں کو رہائش، ملازمت یا دیگر سہولیات فراہم کرنا قومی سلامتی کے سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

قانون میں ویزا کے غلط استعمال پر بھی سزا عائد کر دی گئی ہے، وزٹ یا ٹورسٹ ویزا پر کام کرنے پر جرمانے 10,000 درہم (تقریباً 76,000 روپے) سے شروع ہوتے ہیں اور جرم کی نوعیت کے مطابق قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

رہائش کے دستاویزات کی جعلسازی یا غلط استعمال پر سب سے سخت سزائیں عائد کی جا سکتی ہیں جن میں 10 سال تک قید شامل ہے۔

حکام کے مطابق سخت نفاذ کا مقصد عوامی سلامتی، لیبر مارکیٹ کی سالمیت، اور ملک کے شناختی نظام کا تحفظ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں