بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں جمعہ کی دوپہر انتخابی امیدوار شریف عثمان ہادی پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ عثمان ہادی ڈھاکہ۔8 کے ممکنہ آزاد امیدوار ترجمان ہیں۔
پولیس کے مطابق حملہ آور موٹر سائیکل پر آئے اور بجائن نگر کے باکس کلورٹ کے علاقے میں دوپہر 2 بج کر 25 منٹ پر ہادی پر گولیاں چلائیں اور فرار ہوگئے۔ عثمان ہادی کو فوری طور پر تشویشناک حالت میں ڈھاکہ میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد ایمرجنسی وارڈ کے باہر جمع ہوگئی۔
পল্টন এলাকায় ঢাকা-৮ আসনের স্বতন্ত্র এমপি প্রার্থী ইনকিলাব মঞ্চের ওসমান হাদির উপর গুলি বর্ষণ।#Dhaka #Bangladesh #Dhaka8 pic.twitter.com/xpbQR3fybj
— Basherkella – বাঁশেরকেল্লা (@basherkella) December 12, 2025
عثمان ہادی انتخابی مہم میں سرگرم کردار ادا کر رہے تھے اور جاری سیاسی ماحول میں ان پر حملے نے دارالحکومت میں انتخابی تشدد کے بڑھتے ہوئے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے میڈیا اور پبلک ریلیشنز ڈویژن کے ڈپٹی کمشنر محمد طالب الرحمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ فائرنگ کی مکمل تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کے عام انتخابات اور ریفرنڈم کی تاریخ کا حتمی اعلان ہوگیا
پولیس سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہی ہے اور عینی شاہدین کے بیانات جمع کر رہی ہے تاکہ حملہ آوروں کی شناخت کی جا سکے۔
ابھی تک کسی گرفتاری یا حملے کی وجوہات کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں مل سکی۔ شہری و سیاسی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انتخابات قریب آنے کے ساتھ تشدد کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

بنگلادیش میں حالیہ ہفتوں کے دوران مختلف علاقوں میں ایسے کئی پر تشدد واقعات سامنے آ چکے ہیں، جنہوں نے انتخابی ماحول کی سکیورٹی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔













